لکھنؤ، 2 اگست: راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگھٹن کے کنوینر محمد آفاق نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ غریب مسلمان دن بہ دن مزید غریب ہوتا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب چند بااثر اور صاحبِ ثروت افراد مسلسل زیادہ دولت مند بنتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے بعض افراد وقف کی زمینوں، مدارس، اسکولوں، کالجوں اور دیگر مذہبی و فلاحی اداروں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔ اگر ان افراد کی جائیدادوں اور مالی ذرائع کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے تو بہت سے حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔محمد آفاق نے کہا کہ مختلف مقامات پر وقف اور مذہبی اداروں کی زمینوں پر مبینہ طور پر ناجائز قبضے کیے گئے ہیں، جبکہ عام اور غریب مسلمان بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وقف املاک، مدارس، اسکولوں، کالجوں اور ان سے وابستہ تمام اداروں کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان اداروں کے ذمہ داران اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم کے نام پر چندہ جمع کرنے والے بعض افراد نے بڑے بڑے ادارے قائم کر لیے، مگر عام مسلمان آج بھی غربت، بے روزگاری، جہالت اور پسماندگی کا شکار ہے۔ اگر قوم کی موجودہ بدحالی کی وجوہات تلاش کی جائیں تو ان معاملات کی غیر جانبدارانہ جانچ ناگزیر ہے۔محمد آفاق نے مزید کہا کہ وقف بورڈ کی زمینوں، مذہبی و تعلیمی اداروں، ان کے مالی معاملات اور متعلقہ افراد کی جائیدادوں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے متعلقہ سرکاری ادارے اس کی جانچ کریں تاکہ عوام کے سامنے حقیقت آ سکے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں بھارت سرکار اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کو تحریری طور پر مطالبہ بھیجیں گے اور متعلقہ معلومات فراہم کریں گے تاکہ قانون کے مطابق شفاف تحقیقات کرائی جا سکیں۔محمد آفاق نے واضح کیا کہ ان کا کسی فرد سے ذاتی اختلاف یا دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی پر الزام عائد کر رہے ہیں، بلکہ ایک ذمہ دار بھارتی شہری کی حیثیت سے صرف شفاف جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو تحقیقات سے حقیقت خود سامنے آ جائے گی۔
