نیویارک ۔ 30؍ اگست۔ ایم این این۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے نیویارک میں مذہبی رہنماؤں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان میں مذہبی ہم آہنگی اور انسانی وحدت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ہندو یہ سوچتا ہے کہ ہندوستان سے مسلمانوں کو نکال دینا چاہئے، وہ ہندو نہیں رہ سکتا، کیونکہ ہندو روایت تمام انسانوں کی عزت اور مذہبی تنوع کو تسلیم کرتی ہے۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دینا چاہئے، وہ ہندو نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے یہ بات نیویارک میں منعقدہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ‘ اے ہیڈ فورم’ کے زیر اہتمام ’’ فیتھ لیڈرز کانفرنس‘ ‘میں عیسائیت، یہودیت، ہندو مت اور اسلام سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ بھاگوت نے اپنے خطاب میں مذہبی ہم آہنگی، انسانی وحدت اور ہندوستان کی تکثیری شناخت پر گفتگو کی۔موہن بھاگوت نے ۲۰۱۸ءمیں اپنی لیکچر سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسلم برادری کے کچھ لوگوں نے ان سے سوال کیا تھا کہ وہ ‘ ہندو راشٹر’ کی بات کرتے ہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیا جائے گا؟ ان کے مطابق انہوں نے جواب دیا تھا کہ ایسا نہیں ہے، یہ ہندوتوا نہیں ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے تو وہ ہندو نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق خود کو ہندو کہنے کیلئے یہ یقین رکھنا ضروری ہے کہ تمام راستے بالآخر ایک ہی خدا کی طرف جاتے ہیں اور ہر انسان عزت و وقار کا حقدار ہے۔ انسانوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ ہندو روایت میں یہ تصور موجود ہے کہ تمام مذاہب بالآخر الوہیت کی تلاش کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے تاریخی طور پر ان مختلف مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دی ہے جنہیں اپنے علاقوں میں تحفظ حاصل نہیں تھا۔ تاہم، بھاگوت نے کہا کہ ماضی کا ایک ‘ بوجھ’ مختلف برادریوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اور تنازعات کی ایک وجہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں تک یہ تصور پہنچائے کہ تنوع، بنیادی وحدت کی نفی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق مختلف نوعیتیں اور شناختیں انسانیت کی وحدت کو خوبصورت بناتی ہیں اور ان کا تحفظ ضروری ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ جس طرح ایک شخص اپنی مخصوص شناخت اور خصوصیات کا تحفظ کرتا ہے، اسی طرح اسے دوسروں کی خصوصیات کا بھی احترام اور تحفظ کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق تنوع فطرت کا اصول ہے، جبکہ وحدت فطرت کے پیچھے موجود حقیقت ہے۔
