29.7 C
Delhi
اکتوبر 9, 2026
Uncategorizedمضامین

بجلی کا نیا فلیٹ ریٹ: پھر بڑھی بنکروں کی بےچینی!! تحریر: جاوید اختر بھارتی

بنکروں کے اندر ایک بار پھر بے چینی بڑھی چھوٹے مزدور بنکروں کے سامنے روزی روٹی کے لالے پڑ گئے بچوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کرنے میں جہاں دشواری کا سامنا ہے وہیں بے روزگاری بھی دامن پسارتی جارہی ہے آج بنکر اکثریتی علاقوں میں بہت سے ایسے گھر ہیں کہ چولھے میں آگ نہیں جل پاتی اور بچوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوپاتی

ایک طرف اترپردیش کی حکومت نے اٹل بہاری واجپئی بجلی فلیٹ ریٹ اسکیم کے تحت بنکروں کے لئے فی پاور لوم 400 روپیہ ماہانہ بجلی بل کی شرح متعین کردیا ہے یعنی فی کلو واٹ 800 روپیہ ماہانہ بجلی کا بل بنکروں کو دینا ہوگا جبکہ حالت یہ ہے کہ بنکر کسی بھی حالت میں اسے ادا نہیں کرپائے گا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ قرضدار ہو جائے گا، آرسی کٹے گی اور اس کا جینا دوبھر ہوجائے گا،، جیسے اترپردیش حکومت کا یہ فرمان جاری ہوا تو بجلی محکمہ فوراً حرکت میں آگیا بجلی چیکنگ، اضافی لوڈ، بقایا کے نام پر کنکشن کاٹنے کا سلسلہ شروع ہوگیا مقدمات درج کرانے کی دھمکیاں دے کر ناجائز وصولی بھی کی جانے لگی آج حالت یہ ہے کہ بنکروں کے اندر پولیس محکمہ کا اتنا ڈر نہیں ہے جتنا کہ بجلی محکمہ کا ڈر ہے اور ساری مار گھوم پھر کر چھوٹے بنکروں پر پڑ رہی ہےا سی وجہ سے بنارس، گورکھپور مئو ائمہ، بارہ بنکی، میرٹھ،ٹانڈہ، جلالپور، اعظم گڑھ، مبارکپور، محمدآباد گوہنہ،ولیدپور بھیرہ، سنت کبیر نگر، جونپور، بھدوہی، امرڈوبھا، مہراج گنج، بستی، بڑہل گنج، خیرآباد، ادری، گھوسی، پورہ معروف، کوپا گنج وغیرہ علاقوں میں خود میں نے جاکر دیکھا ہے لوگ حکومت کے اس فیصلے اور اعلان کی مخالفت کررہے ہیں اس بیچ صرف ایک بنکر اکثریتی علاقہ ہے جو خاموش ہے اور اس کی وجہ نہ جانے کیا ہے لیکن اداسی تو وہاں پر بھی نظر آتی ہے،، اترپردیش میں مغرب سے لے کر مشرق تک، شمال سے لے کر جنوب تک بنکروں کے چہرے افسردہ ہیں ان کے بچوں کے لبوں پر تبسم کے بجائے آنکھوں میں خون کے آنسو ہیں

دوسرا مسلہ یہ ہے کہ بڑے بنکروں نے جنہیں سیٹھ اور گرہست کے نام سے جانا جاتا ہے انہوں نے بھی چالیس چالیس روپے تک مزدوری گھٹا دی ہے کیونکہ یہی ان کے نزدیک سب سے آسان راستہ ہے اس بحران سے نمٹنے کا چاہے بھلے ہی مزدور بنکر بھوکا مرے ایک اور مسلہ یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں بجلی محکمہ و بنکروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوتی جارہی ہے بنارس، ٹانڈہ، سنت کبیرنگر، محمدآباد گوہنہ، جہانا گنج، خیرآباد کی بنکر کمیٹیوں کے ذمہ داران اس کوشش میں مصروف ہیں کہ بنکروں اور بجلی محکمہ کے درمیان ٹکراؤ سے بچا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ ان بنکر کمیٹیوں کے ذمہ داران کا اترپردیش کی حکومت سے یہی مطالبہ ہے کہ ماہانہ بجلی کا بل فی پاور لوم 400 روپے کے بجائے فی کلو واٹ 400 روپیہ کردیا جائے اسی سے بنکروں کا بھلا ہوگا نہیں تو ایک بار پھر بنکر تحریک چلانے پر مجبور ہوگا کیونکہ آج جو صورت حال ہے ایسے میں تو خاموش رہ کر یا گھر بیٹھ کر بھی زندہ رہنا مشکل ہے-

اب آئیے ذکر کرتے ہیں بنکر تحریک کا حال میں بلدیاتی انتخابات اختتام پذیر ہوا ہے بہت سے بنکر نمائندوں کے اندر سے ہار جیت کی خوشی اور خمار ابھی تک نکلا نہیں ہے اس لئے عام بنکروں کے سامنے یہ مسلہ ہے کہ بنکر تحریک کی قیادت کون کرے گا حالانکہ یہ بھی ایک مسلہ اور المیہ ہے کہ عام بنکر کس کی قیادت تسلیم کرے کیونکہ ایک ضلع میں کئی کئی بنکر تنظیمیں ہیں اور سب ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں بھی مصروف رہتی ہیں، کل ملا کر دیکھا جائے تو بنکر لیڈران بنکروں کے مسائل کے حل کے لئے کم اور اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے کے لئے زیادہ فکر مند رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں،،ایک دوسرے کی شکایت بھی کرتی ہیں اور الزامات بھی عائد کرتی ہیں،، بنکر تنظیموں کے ذمہ داران کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ سیاسی اور سماجی تحریک میں فرق ہوتا ہے،، سیاسی تحریک میں ایک دوسرے پر تنقید کی جاتی ہے اس لئے کہ ووٹ کا معاملہ ہوتا ہے مگر سماجی تحریک میں شکایت، غیبت، چغلی، الزام تراشیاں کرنے کی گنجائش نہیں ہے پھر بھی ایسا کیا جاتا ہے تو یہ آپسی بغض و حسد ہے اور بغض و حسد اپنے ہی کو کھاتا ہے اور آج چاہے نتیجہ کہئیے یا مثال وہ سامنے ہے،، یقیناً تجارت بہت عمدہ کام ہے بلکہ سنت رسول بھی ہے مگر اس میں جھوٹ شامل کردیا جائے گا تو یہ سنت رسول کی توہین ہوگی اور اس کے بعد بھی بے حیائی پر آمادگی ظاہر کی جائے گی تو اس کا بھیانک خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور یہ بھی سچائی ہے کہ ہم نے تجارت کے نام پر اپنے کاندھوں پر جھوٹ اور دھوکا دہی کی گٹھری ڈھونا شروع کردیا تھا اور آج بھی یہ کام ہو رہا ہے،، بجلی کا فلیٹ ریٹ نئے فرمان کے مطابق پریشان کن تو ہے ہی علاوہ ازیں تیار مال کی بکری نہ ہونا اور میٹریل کا مہنگا ہونا اس سے بھی بنکروں کی کمر ٹوٹ رہی ہے جبکہ ویسے ہی روز مرہ کی زندگی کی ضروریات پر دیکھا جائے تو کھانے پینے کے جو سامان ہیں وہ بھی صدا بلند کررہے ہیں کہ پیسہ پھیک تماشہ دیکھ،، ایسی حالت میں بنکروں کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہے خود دوسروں کا تن ڈھکنے والا بنکر آج اپنا تن ڈھکنے کے لئے پیوند لگانے کے لئے مجبور ہے بنکروں کے سر پر اتنا شدید بحرانیت کا بادل چھایا ہوا ہے پھر بھی سیاسی پارٹیوں کی خاموشی تو یہی ظاہر کرتی ہے کہ بنکروں کے روشن مستقبل کی فکر کسی بھی پارٹی کو نہیں ہے اگر حکومت نے بنکروں کے مسائل پر توجہ نہیں دیا اور سیاسی پارٹیوں نے اپنی خاموشی کو نہیں توڑا اور بنکروں نے سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھتے ہوئے اپنا رہنما پیدا نہیں کیا تو پاور لوم فروخت کرنے کا دن بھی آسکتا ہے، پشتینی پیشہ تنائی بنائی جیسی صنعت دم توڑدے گی ملک کے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور پونجی پتیوں کا بول بالا ہوئے گا اور بنکروں میں چاہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا سب کو ان پونجی پتیوں کی غلامی کرنی پڑے گی ویسے ہی بہت حد تک ہماری صنعت پر وہ قابض ہیں اور اس بات کو محسوس کرنے والوں نے محسوس کیا ہے اسی وجہ سے وستر ادیوگ سنگھ اور ہندو بنکر واہنی کے لوگ بھی احتجاج و مظاہرہ کر رہے ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بنکروں کی بھی ساری چھوٹی بڑی کمیٹیا سر جوڑ کر بیٹھیں اور مضبوط لائحہ عمل تیار کریں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی صنعت کو بچانے کے لئے امن و سکون کے ساتھ احتجاج کریں اور اترپردیش کی حکومت سے مطالبہ کریں کہ بجلی کی نئی شرح سے متعلق فرمان کو رد کیا جائے فلیٹ ریٹ کو کم کیا جائے اور بنکروں کا استحصال بند کیا جائے اور بنکر بھی یقین کرلے کہ آج جو حالات ہیں اس سے نمٹنے کے لئے صرف ایک راستہ ہے اور اس راستے کا نام سیاست ہے، منزل کا نام حصہ داری ہے کیونکہ سیاست ہی ماسٹر چابی ہے جب سیاست سے دلچسپی ہوگی تب بنکر مزدوروں کے بہتے ہوئے پسینے میں ان کے ارمان اور جذبات کو محسوس کرنے والوں کی بڑی تعداد بھی نظر آئے گی اور ان کے ارمان اور جذبات کی ترجمانی کرنے والے بھی نظر آئیں گے مگر پہلے خود بنکروں کو سیاست کے شامیانے میں آناہوگا اس کے بعد بول بالا ہوگا نہیں تو پھر سارے ارمان پسینے کے ساتھ بہہ جائیں گے کوئی محسوس کرنے والا نہیں ہوگا اور فی الحال ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے-

Related posts

مسقط۔18؍ دسمبر۔ ایم این این۔وزیر اعظم نے آج مسقط میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ حاضرین میں مختلف بھارتی اسکولوں کے 700 سے زائد طلبہ شامل تھے۔ اس سال عمان میں بھارتی اسکولوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنی قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب میں بھارت میں موجود خاندانوں اور دوستوں کی جانب سے برادری کو پیغامات اور مبارکباد دیں۔ انہوں نے برادری کے شاندار اور گرمجوش استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عمان میں آباد مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں سے مل کر خوش ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ تنوع بھارتی ثقافت کی بنیاد ہے،ایسا قدر جو انہیں کسی بھی معاشرے میں شامل ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔بھارتی برادری کی عمان میں اعتماد اور مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگی اور تعاون بھارتی تارکین وطن کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، مانڈوی سے مسقط تک، اور آج یہ تعلقات تارکین وطن کی محنت اور ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جانیے کوئز میں بڑی تعداد میں حصہ لینے والی برادری کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علم بھارت-عمان تعلقات کا مرکز رہا ہے اور برادری کو ملک میں بھارتی اسکولوں کے 50 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے برادری کی فلاح و بہبود کے لیےعزت مآب سلطان حیثم بن طارق آل سعید کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم نے بھارت کی اصلاحاتی نمو اور ترقی، اس کی رفتار اور تبدیلی کے پیمانے، اور معیشت کی قوت پر بات کی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد نمو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ 11 سال میں حکومت کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، مینوفیکچرنگ، صحت کی سہولیات، گرین گروتھ، اور خواتین کی بااختیاری کے شعبوں میں ملک میں تبدیلیاں آئی ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت 21ویں صدی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس میں عالمی سطح کا اختراع، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوپی آئی، جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بنتا ہے، فخر اور کامیابی کا سبب ہے۔انہوں نے بھارت کی خلائی شعبے میں حالیہ شاندار کامیابیوں، چاند پر لینڈنگ سے لے کر منصوبہ بند گگن یان انسانی خلائی مشن تک روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبہ بھارت اور عمان کے تعاون کا ایک اہم حصہ ہے اور طلبہ کو اسرو کے یوویکا پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی، جو نوجوانوں کے لیےمختص ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت صرف ایک بازار نہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے،چاہے وہ اشیاء اور خدمات ہوں یا ڈیجیٹل حل۔وزیر اعظم نے تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں بھی اور جب بھی ہمارے لوگ مدد کے محتاج ہوں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔عمان شراکت داری مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی( میں تعاون، ڈیجیٹل لرننگ، انوویشن پارٹنرشپ، اور کاروباری تبادلے شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، گہرائی سے سیکھیں، اور جرات مندانہ اختراعات کریں تاکہ وہ انسانیت کی بھلائی میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

www.journeynews.in

ایم آئی ایم نے شروع کی مسلم نوجوانوں کو جیل بھیجنے کی مہم

www.journeynews.in

مہا کمبھ۔2025۔ دنیا کے سب سے بڑے روحانی اجتماع کے لیے ہندوستان کی تیاریاں

www.journeynews.in