جولائی 19, 2026
Uncategorized

جمعیت یوتھ کلب امروہہ پانی پلانا باعث اجر و ثواب اور صدقہِ جاریہ ہے،مولانا محمد زبیر

 

شاہ ولایت چوراہا/امروہہ (11جون 2023)

آج گرمی کے موسم کے باعث سرائے موڑ پر جمعیۃ یوتھ کلب امروہہ کے زیر اہتمام راہگیروں کے لیے ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا گیا جس کی سربراہی مولانا محمد فرقان کونسلر جمعیۃ یوتھ کلب ضلع باغپت اور A.D.O.C جمعیت یوتھ کلب امروہہ ماسٹر محمد آصف نے فرمائی، اس موقع پر ٹھنڈے پانی کی بوتلوں کا نظم کیا گیا جس کو عوام الناس نے خوب سراہا اور جمعیۃ یوتھ کلب کے اس قدم کو قابل تعریف قرار دیا

اس موقع پر مولانا محمد زبیر کنوینر جمعیت یوتھ کلب ضلع امروہہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانی پلانا خود بہت بڑا اجر کا کام ہے،ادھر موسم ِ گرما کی آمد ہوچکی ہے ،جون کے مہینہ کی شروعات کے ساتھ ہی گرمی اور تلخی کے دور کا آغاز ہوجاتا ہے ،کہیں زیادہ اور کہیں کم لیکن دھوپ کی شدت اور تمازت لوگوں کو بے قرار کردیتی ہے۔بندگان ِ خدا کی مختلف خدمت انجام دینے والی تنظیمیں اور بہت سے افراداپنی خدمات میں اضافہ کرتے ہوئے موسم ِ گرما میں پانی پلانے کی خدمت کا بھی آغاز کردیتے ہیں ۔تاکہ اس کے ذریعہ دھوپ اور گرمی میں بے حال ہوجانے والے اور پیاس کی شدت سے بے چین ہوجانے والے افراد کو بروقت پانی پلاکر راحت پہنچائی جاسکے۔پانی پلانا ایک بہت بڑی خدمت اور حصول ِثواب کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔عام طور پر لوگ اس کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دیتے یا اس خدمت کو کوئی بڑی اور عظیم خدمت نہیں سمجھتے جب کہ حقیقت یہ ہے

جناب قاری یامین صاحب نے بتایا پیاسوں کو پانی پلانا بھی بڑا کارِ ثواب ہے ۔اور اس پر بھی اللہ تعالی نے بہت سے اجر وثواب کے وعدے فرمائے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے پانی پلانے کی اہمیت اور ضرورت کو اپنے مختلف ارشادات میں بیان کیا ہے ،پانی پلانے کی ترغیب دی اور انسانوں کو راحت پہنچانے کی تلقین فرمائی ہے۔دھوپ سے انسان جب بے قابو ہوجائے اور حلق پانی سے تڑپنے لگے اس وقت چند بوند قطرے کتنی راحت پہنچاتے ہیں اس کا اندازہ وہی انسان کرسکتا ہے جو اس کیفیت سے دوچار ہوا ہو ،اور پھر اس کی نگاہوں میں پانی پلانے والے کی جو قدر ومنزلت ہوتی ہے کوئی اس کا اندازہ نہیں کرسکتا۔کیوں کہ پانی ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کا گزارہ ممکن نہیں ،اگر کسی وقت آدمی کو کھانانہ ملے وہ برداشت کرلے گا ،بھوکا رہنا پڑے وہ رہ جائے گا لیکن پانی نہ ملے توماہی ِ بے آب کی طرح بے چین ہوجائے گا اور کسی نہ کسی طرح پانی کے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا ،پانی دراصل انسانی حیات کے لئے ناگزیر نعمت ہے، جمعیۃ علماء ہند کیونکہ ہمیشہ سے ہی خدمت خلق کرتی رہی ہے اور آپسی اتحاد و اتفاق کی کوشش کرتی رہی ہے یہ قدم بھی اسی لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ عوام و خواص میں یہ پیغام جائے ہم سب ایک ہے اس ملک کے باشندے آپس میں مل جل کر رہتے ہیں،

جناب مولانا دلدار حسین صاحب نے کہا کہ انشاءاللہ یہ کیمپ پورے امروہہ میں جگہ جگہ لگایٔے جایٔنگے

اس موقع پرحافط محمد فرمان ماسٹر محمد عثمان اور

روور/اسکاؤٹ امروہہ

محمد فرقان، تاج محمد ، سہیل، محمد زبیر، ثاقب، طیب، سہیل، عبداللہ ، شاہ نواز، وغیرہ وغیرہ موجود رہے

 

Related posts

5جی میں بھارت کی بڑی چھلانگ، ایک سال میں تیسرے نمبر پر پہنچا

www.journeynews.in

سلمان خورشید انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے نئے صدر منتخب

www.journeynews.in

مسقط۔18؍ دسمبر۔ ایم این این۔وزیر اعظم نے آج مسقط میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ حاضرین میں مختلف بھارتی اسکولوں کے 700 سے زائد طلبہ شامل تھے۔ اس سال عمان میں بھارتی اسکولوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنی قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب میں بھارت میں موجود خاندانوں اور دوستوں کی جانب سے برادری کو پیغامات اور مبارکباد دیں۔ انہوں نے برادری کے شاندار اور گرمجوش استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عمان میں آباد مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں سے مل کر خوش ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ تنوع بھارتی ثقافت کی بنیاد ہے،ایسا قدر جو انہیں کسی بھی معاشرے میں شامل ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔بھارتی برادری کی عمان میں اعتماد اور مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگی اور تعاون بھارتی تارکین وطن کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، مانڈوی سے مسقط تک، اور آج یہ تعلقات تارکین وطن کی محنت اور ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جانیے کوئز میں بڑی تعداد میں حصہ لینے والی برادری کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علم بھارت-عمان تعلقات کا مرکز رہا ہے اور برادری کو ملک میں بھارتی اسکولوں کے 50 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے برادری کی فلاح و بہبود کے لیےعزت مآب سلطان حیثم بن طارق آل سعید کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم نے بھارت کی اصلاحاتی نمو اور ترقی، اس کی رفتار اور تبدیلی کے پیمانے، اور معیشت کی قوت پر بات کی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد نمو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ 11 سال میں حکومت کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، مینوفیکچرنگ، صحت کی سہولیات، گرین گروتھ، اور خواتین کی بااختیاری کے شعبوں میں ملک میں تبدیلیاں آئی ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت 21ویں صدی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس میں عالمی سطح کا اختراع، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوپی آئی، جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بنتا ہے، فخر اور کامیابی کا سبب ہے۔انہوں نے بھارت کی خلائی شعبے میں حالیہ شاندار کامیابیوں، چاند پر لینڈنگ سے لے کر منصوبہ بند گگن یان انسانی خلائی مشن تک روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبہ بھارت اور عمان کے تعاون کا ایک اہم حصہ ہے اور طلبہ کو اسرو کے یوویکا پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی، جو نوجوانوں کے لیےمختص ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت صرف ایک بازار نہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے،چاہے وہ اشیاء اور خدمات ہوں یا ڈیجیٹل حل۔وزیر اعظم نے تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں بھی اور جب بھی ہمارے لوگ مدد کے محتاج ہوں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔عمان شراکت داری مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی( میں تعاون، ڈیجیٹل لرننگ، انوویشن پارٹنرشپ، اور کاروباری تبادلے شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، گہرائی سے سیکھیں، اور جرات مندانہ اختراعات کریں تاکہ وہ انسانیت کی بھلائی میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

www.journeynews.in