32 C
Delhi
ستمبر 13, 2026
Uncategorized

خلیجی ممالک کی جانب سے کویت اوربحرین پر ایران کے حملوں کی شدید مذمت

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ملکوں نے بحرین اور کویت کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے جو خلیجی ممالک کے خلاف ایران کی جانب سے دوبارہ کشیدگی بڑھانے کا اشارہ ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن نے تہران کے خلاف اپنے لہجے کو سخت کر دیا ہے اور ایران کے خلاف نئے فوجی حملے کرنے کا کہا یہ ممکنہ حملے ان فضائی حملوں کے بعد کیے جا سکتے ہیں جن میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا جو آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کے تین ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔

اسی دوران خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ یہ حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایران سلامتی و امن کو مستحکم کرنے اور بحران کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے اپنے رویے پر قائم ہے۔ جی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے دونوں ملکوں کی خودمختاری پر کھلم کھلا حملہ اور واشگاف خلاف ورزی ہیں۔ ایسے حملے شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی، استحکام اور تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ یہ حملے بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔اسی تناظر میں خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے مملکتِ بحرین اور ریاستِ کویت کے ساتھ کونسل کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور اپنی سلامتی و استحکام برقرار رکھنے اور اپنے شہریوں و مقیم افراد کے تحفظ کے لیے ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کی۔کویت کی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف نے اعلان کیا کہ کویتی فضائی دفاع نے دو بیلسٹک میزائلوں اور 13 دشمن ڈرونز کا سراغ لگایا جنہوں نے کویت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

بیان کے مطابق ان کا کامیابی سے راستہ روکا گیا اور ان سے بہتر طور پر نمٹا گیا۔ ان حملوں میں کسی مادی نقصان یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔کویتی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف نے کہا کہ کویتی فضائی دفاع نے واضح کیا ہے کہ جو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کا نتیجہ تھیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کی طرف سے جاری کردہ سلامتی و تحفظ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔

دوسری طرف بحرین نے انکشاف کیا کہ ایران مملکت میں شہریوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اپنے مجرمانہ حملوں کے ذریعے جارحانہ رویہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بحرین نے واضح کیا کہ اس نے ایران کے متعدد غدارانہ فضائی حملوں کا مقابلہ کیا، انہیں روکا اور تباہ کر دیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے کویت اور بحرین پر ایران کے بار بار ہونے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور انہیں مسترد کردیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

سعودی عرب نے ایران کو ان ظالمانہ حملوں کو جاری رکھنے کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا اور خطے کی سلامتی، استحکام اور تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے ان خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ سعودی عرب نے ریاستِ کویت اور مملکتِ بحرین کے ساتھ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

کویت نے ملک پر ایران کے بار بار ہونے والے مجرمانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان حملوں میں سے آخری حملہ بدھ کی صبح ہوا جو اس کی خودمختاری کی واشگاف خلاف ورزی، اس کی سلامتی، استحکام اور شہریوں و مقیم افراد کے تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔کویت نے کہا کہ ایران کے حالیہ حملے بین الاقوامی قانون کے قواعد، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ کویت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کا سلسلہ جاری رہنا، ایسے وقت میں جب علاقائی اور بین الاقوامی کوششیں امن قائم کرنے کے لیے جاری ہیں، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو منظم طریقے سے سبوتاژ کرنا ہے اور اس راستے کی حمایت کرنے والے بین الاقوامی عزم کو پسِ پشت ڈالنا ہے۔

وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ کویت کی سلامتی، خودمختاری اور اس کے شہریوں و مقیم افراد کا تحفظ ایک ایسی ریڈ لائن ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کویت نے اپنی خودمختاری کے تحفظ اور اپنی سلامتی و استحکام کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے اپنے جائز حق کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

متحدہ عرب امارات نے برادر ملک بحرین اور برادر ملک کویت کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے والے دوبارہ ہونے والے ایرانی جارحانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔اماراتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ جارحانہ حملے بحرین اور کویت کی خودمختاری کی واشگاف خلاف ورزی اور ان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بحرین اور کویت کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور ان کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے والی ہر چیز کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

اسی تناظر میں قطر نے بحرین اور کویت پر ایران کے بار بار ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کا اظہار کیا اور انہیں دونوں ملکوں کی خودمختاری پر کھلم کھلا حملہ اور بین الاقوامی قانون کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں خطے کو بلا جواز حملوں کے نتائج سے بچانے، بات چیت اور سفارت کاری کے راستے کو جاری رکھنے، کشیدگی کو کم کرنے اور مفاہمت کی یادداشت کے فریم ورک کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔قطری وزارت خارجہ نے بحرین اور کویت کے ساتھ قطر کی مکمل یکجہتی اور ان کی خودمختاری اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

سلطنت عمان نے مملکتِ بحرین اور ریاستِ کویت کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے فوجی حملوں اور آبنائے ہرمز میں سعودی اور قطری تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے واقعات کی مذمت کی۔ عمان نے برادر ممالک کے ساتھ ان کی سلامتی، استحکام، علاقائی سالمیت، خودمختاری اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔ عمانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اس کی سلامتی، جہاز رانی کے تحفظ، بین الاقوامی تجارت کی روانی اور توانائی کی سپلائی کے لیے ایک خطرہ ہے۔

Related posts

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کے بیان کے حوالے سے بعض اخبارات میں شائع خبر کی تردید

www.journeynews.in

مسقط۔18؍ دسمبر۔ ایم این این۔وزیر اعظم نے آج مسقط میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ حاضرین میں مختلف بھارتی اسکولوں کے 700 سے زائد طلبہ شامل تھے۔ اس سال عمان میں بھارتی اسکولوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنی قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب میں بھارت میں موجود خاندانوں اور دوستوں کی جانب سے برادری کو پیغامات اور مبارکباد دیں۔ انہوں نے برادری کے شاندار اور گرمجوش استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عمان میں آباد مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں سے مل کر خوش ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ تنوع بھارتی ثقافت کی بنیاد ہے،ایسا قدر جو انہیں کسی بھی معاشرے میں شامل ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔بھارتی برادری کی عمان میں اعتماد اور مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگی اور تعاون بھارتی تارکین وطن کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، مانڈوی سے مسقط تک، اور آج یہ تعلقات تارکین وطن کی محنت اور ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جانیے کوئز میں بڑی تعداد میں حصہ لینے والی برادری کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علم بھارت-عمان تعلقات کا مرکز رہا ہے اور برادری کو ملک میں بھارتی اسکولوں کے 50 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے برادری کی فلاح و بہبود کے لیےعزت مآب سلطان حیثم بن طارق آل سعید کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم نے بھارت کی اصلاحاتی نمو اور ترقی، اس کی رفتار اور تبدیلی کے پیمانے، اور معیشت کی قوت پر بات کی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد نمو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ 11 سال میں حکومت کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، مینوفیکچرنگ، صحت کی سہولیات، گرین گروتھ، اور خواتین کی بااختیاری کے شعبوں میں ملک میں تبدیلیاں آئی ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت 21ویں صدی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس میں عالمی سطح کا اختراع، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوپی آئی، جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بنتا ہے، فخر اور کامیابی کا سبب ہے۔انہوں نے بھارت کی خلائی شعبے میں حالیہ شاندار کامیابیوں، چاند پر لینڈنگ سے لے کر منصوبہ بند گگن یان انسانی خلائی مشن تک روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبہ بھارت اور عمان کے تعاون کا ایک اہم حصہ ہے اور طلبہ کو اسرو کے یوویکا پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی، جو نوجوانوں کے لیےمختص ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت صرف ایک بازار نہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے،چاہے وہ اشیاء اور خدمات ہوں یا ڈیجیٹل حل۔وزیر اعظم نے تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں بھی اور جب بھی ہمارے لوگ مدد کے محتاج ہوں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔عمان شراکت داری مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی( میں تعاون، ڈیجیٹل لرننگ، انوویشن پارٹنرشپ، اور کاروباری تبادلے شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، گہرائی سے سیکھیں، اور جرات مندانہ اختراعات کریں تاکہ وہ انسانیت کی بھلائی میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

www.journeynews.in

مہاراشٹر میں سیکڑوں اور سولا پور میں 21 سمر سیول کا تحفہ

www.journeynews.in