پھاگن مہینے میں ہر طرف پھول کھل آتے ہیں اور بڑی رنگ برنگی بہار ہوتی ہے۔ ہولی کا تہوار اسی پھاگن مہینے میں بڑے جوش و خروش او ر جذبہ کے ساتھ ماےا جاتا ہے۔جس میں لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر ہولی کی مبارکباد دیتے ہیں۔ اس طرح ہولی کے تہوار کا ظاہری پہلو جس کے تحت ایک دن ’ہولیکا‘ جلائی جاتی ہے اور اس کے اگلے دن ایک دوسرے پر رنگ و گلال ڈال کر اس تہوار کو روایتی طور سے منایا جاتا ہے۔ لیکن اس کی ایک روحانی اہمیت بھی ہے۔
دنیا میں ہمیشہ ہی ایک دور چلتا رہتا ہے حق و باطل کی ہمیشہ لڑائی ہوتی رہتی ہے حق کو دبانے کے لئے باطل ہمیشہ ہی بڑی کوشش و سعی کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے دب جائے یا چھپ جائے مگر درحقیقت حق ایک ایسی چیز ہے جو کبھی بھی چھپ نہیں سکتا ہے کیونکہ خالق کائنات دنیا کی شروعات میں حق تھے ، آج بھی حق ہیں اور رہتی دنیا تک حق ہی رہیں گے۔
ہولی کے سلسلے میں ایک پرانی روایت ہے۔ بھکت پرہلاد کے والد ’ہرنا کشیپ‘ جو اپنے آپ کو کہتے تھے کہ میں خدا (پرماتما) ہوں سب لوگ میری عبادت کرو۔جو لوگ غرض مند تھے جو اصولے سے گرے ہوئے تھے انہوں نے ’ہرناکشیپ‘ کی بات تسلیم کرلی اور انھیں خدا و پرماتما کی حیثیت سے قبول کر لیا۔لیکن بھکت پرہلاد جو حقیقی خالق کائنات کو ماننے والے تھے اور انھیں کی پوجا و عبادت کرنے والے تھے، انہوں نے اپنے والد کی بات کو تسلیم نہیں کی اور انہیں ایک عام انسان ہی مانتے تھے اور حقیقی خالق کائنات کی عبادت کرتے رہے خواہ ان کے والد نے ان پر کتنا ہی ظلم کیو ں نہ کیا اور ان پر کتنی ہی سختیاں کیوں نہ کی لیکن انہوں نے ان سب کا کچھ بھی خیال نہیں کیا ۔
جب بھکت پرہلاد نے اپنے والد کو کسی بھی طرح’پرماتما‘ تسلیم نہیں کیا تو انہیں جان سے مار دینے کی ترکیب سوچی گئی۔ ’ہرنا کشیپ‘ کی ایک بہن تھی،’ہولیکا‘۔ جس کو یہ’ وردان‘ ملا تھا کہ اگر وہ آگ میں بیٹھے تو بھی وہ جل نہیں سکتی، اس نے سوچا کہ وہ پرہلاد کو لی کر آگ میں بیٹھ جائے گی پرہلاد جل جائے گا اور وہ محفوظ رہے گی۔ اسی بات پر عمل کیا گیا لکڑیوں کا انبار لگایا گیا اس میں آگ لگا دی گئی اور ’ہولیکا ’ پرہلاد کو گود میں لے کر آگ کے بیچ میں بیٹھ گئی ۔آخر کار اگلے دن دیکھا گیا کہ پرہلاد محفوظ تھا اور ’ہولیکا ‘ جل گئی تھی۔ اسی واقعہ کی یاد میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ حق کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے اور باطل کو ہمیشہ ہی شکست کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
سنتوں کے مطابق ہولی جلانے کی روحانی اہمیت یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں کو جلا کر نیک اور ایماندارانہ زندگی بسر کریں اور جس طرح ہم باہر ایک دوسرے پر رنگ گلال ڈال کر اس تہوار کو مناتے ہیں اسی طرح ہم مکمل ’گرو‘ کی مدد سے مراقبہ’ میڈیٹیشن‘ کے ذریعہ اپنے اندر’پربھو‘ کے مختلف رنگوں کو دیکھ کر حقیقی ہولی کھیلیں۔
اس تہوار کا دوسرا پہلوں ایک دوسرے کو رنگ لگانا بھی ہے اس تہوار کے دن لوگ سفید کپڑے پہنتے ہیں اس میں بھی ایک روحانی پہلو ہے۔ سفید رنگ میں دیگر تمام رنگ شامل ہیں اسی طرح ’پربھو‘ ہم سب کے اندر ہیں۔ جس طرح سفید رنگ سبھی رنگوں کا وسیلہ ہے اسی ’پربھو’ یا پرمیشور ساری دنیا کا وسیلہ ہیں۔
اس سلسلے میں ایک نو بہاتا جوڑے کی کہانی ہے۔ یہ جوڑا اپنی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت ہی پیار و محبت سے رہتے تھے لیکن کچھ دن گذرنے کے بعد وی ایک دوسرے کی غلطیوں خامیوں کو دیکھ کر باہم بحث کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کی زندگی میں باہمی خلوص و محبت میں کمی آنے لگی اور ان کی زندگی بے لطف ہو گئی۔ ان کے کنبے کی ایک بزرگ خاتون نے ان کی زندگی میں اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ان میں پھر سے محبت پیدا کرنے کے لئے انہیں ایک پارک میں کھانے پر مدعو کیا۔ اس جوڑے نے مختلف قسم کے کھانوں اور خوبصورت ماحول کا لطف اٹھایا۔ اس کے بعد اس جوڑے سے بزرگ خاتون نے ڈھلتے ہوئے سورج کو دیکھنے کو کہا جو دھیرے دھیرے مختلف قسم کے رنگوں، نیلے ،سنگتری، پیلے اور گلابی میں تبدیل ہو کرماحول کو خوبصورت بنا رہا تھا۔بزرگ خاتون نے اس منظر کو دیکھ کر کہا ’’ کتنا خوبصورت نظارہ ہے‘‘ جے اس جوڑے نے تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد بزرگ خاتون نے کہا کہ’’ میں نے آپ میں سے کسی سے بھی نہیں سنا کہ وہ خالق کائنات سے دعا کرے کہ ان رنگوں کی سمت کو تبدیل کر کے ڈھلتے سورج کی سرخی کو کم یا زیادہ کر دے۔‘‘ اگر خالق کائنات کے بنائے ہوئے ڈھلتے سورج کے اس نظارے کو ہم بغیر تبدیلی کے تسلیم کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح خالق کائنات نے ہم سب کو بنایا ہے تو ہمیں کسی میں کمی نہ دیکھتے ہوئے اسے خوشی خوشی قبول کرنا چاہئے۔
جس طرح ہولی میں مختلف رنگ ہمارے کپڑوں پر کئی رنگوں کی مختلف شکلیں بناتے ہیں۔ اور ہم ان شکلوں کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اسی طرح ہمیں اپنی زندگی میں ایک دوسرے کو محبت کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔ اگر ہم ایک دیش یا کمیونٹی کے ممبر ہیں تو ہمیں دوسرے کو اسی طرح تسلیم کرنا چاہئے جس طرح خالق کائنات سب کو قبول کرتے ہیں۔
آئیے ہولی اس مقدس تہوار پر ہم سب اپنے اندر کی برائیوں کو جلا کر اور ایک دوسرے پر محبت اور بھائی چارگی کا رنگ ڈالتے ہوئے حیات انسانی کے اہم ترین مقصد کو حاصل کریں۔
پھاگن مہینے میں ہر طرف پھول کھل آتے ہیں اور بڑی رنگ برنگی بہار ہوتی ہے۔ ہولی کا تہوار اسی پھاگن مہینے میں بڑے جوش و خروش او ر جذبہ کے ساتھ ماےا جاتا ہے۔جس میں لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر ہولی کی مبارکباد دیتے ہیں۔ اس طرح ہولی کے تہوار کا ظاہری پہلو جس کے تحت ایک دن ’ہولیکا‘ جلائی جاتی ہے اور اس کے اگلے دن ایک دوسرے پر رنگ و گلال ڈال کر اس تہوار کو روایتی طور سے منایا جاتا ہے۔ لیکن اس کی ایک روحانی اہمیت بھی ہے۔
دنیا میں ہمیشہ ہی ایک دور چلتا رہتا ہے حق و باطل کی ہمیشہ لڑائی ہوتی رہتی ہے حق کو دبانے کے لئے باطل ہمیشہ ہی بڑی کوشش و سعی کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے دب جائے یا چھپ جائے مگر درحقیقت حق ایک ایسی چیز ہے جو کبھی بھی چھپ نہیں سکتا ہے کیونکہ خالق کائنات دنیا کی شروعات میں حق تھے ، آج بھی حق ہیں اور رہتی دنیا تک حق ہی رہیں گے۔
ہولی کے سلسلے میں ایک پرانی روایت ہے۔ بھکت پرہلاد کے والد ’ہرنا کشیپ‘ جو اپنے آپ کو کہتے تھے کہ میں خدا (پرماتما) ہوں سب لوگ میری عبادت کرو۔جو لوگ غرض مند تھے جو اصولے سے گرے ہوئے تھے انہوں نے ’ہرناکشیپ‘ کی بات تسلیم کرلی اور انھیں خدا و پرماتما کی حیثیت سے قبول کر لیا۔لیکن بھکت پرہلاد جو حقیقی خالق کائنات کو ماننے والے تھے اور انھیں کی پوجا و عبادت کرنے والے تھے، انہوں نے اپنے والد کی بات کو تسلیم نہیں کی اور انہیں ایک عام انسان ہی مانتے تھے اور حقیقی خالق کائنات کی عبادت کرتے رہے خواہ ان کے والد نے ان پر کتنا ہی ظلم کیو ں نہ کیا اور ان پر کتنی ہی سختیاں کیوں نہ کی لیکن انہوں نے ان سب کا کچھ بھی خیال نہیں کیا ۔
جب بھکت پرہلاد نے اپنے والد کو کسی بھی طرح’پرماتما‘ تسلیم نہیں کیا تو انہیں جان سے مار دینے کی ترکیب سوچی گئی۔ ’ہرنا کشیپ‘ کی ایک بہن تھی،’ہولیکا‘۔ جس کو یہ’ وردان‘ ملا تھا کہ اگر وہ آگ میں بیٹھے تو بھی وہ جل نہیں سکتی، اس نے سوچا کہ وہ پرہلاد کو لی کر آگ میں بیٹھ جائے گی پرہلاد جل جائے گا اور وہ محفوظ رہے گی۔ اسی بات پر عمل کیا گیا لکڑیوں کا انبار لگایا گیا اس میں آگ لگا دی گئی اور ’ہولیکا ’ پرہلاد کو گود میں لے کر آگ کے بیچ میں بیٹھ گئی ۔آخر کار اگلے دن دیکھا گیا کہ پرہلاد محفوظ تھا اور ’ہولیکا ‘ جل گئی تھی۔ اسی واقعہ کی یاد میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ حق کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے اور باطل کو ہمیشہ ہی شکست کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
سنتوں کے مطابق ہولی جلانے کی روحانی اہمیت یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں کو جلا کر نیک اور ایماندارانہ زندگی بسر کریں اور جس طرح ہم باہر ایک دوسرے پر رنگ گلال ڈال کر اس تہوار کو مناتے ہیں اسی طرح ہم مکمل ’گرو‘ کی مدد سے مراقبہ’ میڈیٹیشن‘ کے ذریعہ اپنے اندر’پربھو‘ کے مختلف رنگوں کو دیکھ کر حقیقی ہولی کھیلیں۔
اس تہوار کا دوسرا پہلوں ایک دوسرے کو رنگ لگانا بھی ہے اس تہوار کے دن لوگ سفید کپڑے پہنتے ہیں اس میں بھی ایک روحانی پہلو ہے۔ سفید رنگ میں دیگر تمام رنگ شامل ہیں اسی طرح ’پربھو‘ ہم سب کے اندر ہیں۔ جس طرح سفید رنگ سبھی رنگوں کا وسیلہ ہے اسی ’پربھو’ یا پرمیشور ساری دنیا کا وسیلہ ہیں۔
اس سلسلے میں ایک نو بہاتا جوڑے کی کہانی ہے۔ یہ جوڑا اپنی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت ہی پیار و محبت سے رہتے تھے لیکن کچھ دن گذرنے کے بعد وی ایک دوسرے کی غلطیوں خامیوں کو دیکھ کر باہم بحث کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کی زندگی میں باہمی خلوص و محبت میں کمی آنے لگی اور ان کی زندگی بے لطف ہو گئی۔ ان کے کنبے کی ایک بزرگ خاتون نے ان کی زندگی میں اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ان میں پھر سے محبت پیدا کرنے کے لئے انہیں ایک پارک میں کھانے پر مدعو کیا۔ اس جوڑے نے مختلف قسم کے کھانوں اور خوبصورت ماحول کا لطف اٹھایا۔ اس کے بعد اس جوڑے سے بزرگ خاتون نے ڈھلتے ہوئے سورج کو دیکھنے کو کہا جو دھیرے دھیرے مختلف قسم کے رنگوں، نیلے ،سنگتری، پیلے اور گلابی میں تبدیل ہو کرماحول کو خوبصورت بنا رہا تھا۔بزرگ خاتون نے اس منظر کو دیکھ کر کہا ’’ کتنا خوبصورت نظارہ ہے‘‘ جے اس جوڑے نے تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد بزرگ خاتون نے کہا کہ’’ میں نے آپ میں سے کسی سے بھی نہیں سنا کہ وہ خالق کائنات سے دعا کرے کہ ان رنگوں کی سمت کو تبدیل کر کے ڈھلتے سورج کی سرخی کو کم یا زیادہ کر دے۔‘‘ اگر خالق کائنات کے بنائے ہوئے ڈھلتے سورج کے اس نظارے کو ہم بغیر تبدیلی کے تسلیم کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح خالق کائنات نے ہم سب کو بنایا ہے تو ہمیں کسی میں کمی نہ دیکھتے ہوئے اسے خوشی خوشی قبول کرنا چاہئے۔
جس طرح ہولی میں مختلف رنگ ہمارے کپڑوں پر کئی رنگوں کی مختلف شکلیں بناتے ہیں۔ اور ہم ان شکلوں کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اسی طرح ہمیں اپنی زندگی میں ایک دوسرے کو محبت کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔ اگر ہم ایک دیش یا کمیونٹی کے ممبر ہیں تو ہمیں دوسرے کو اسی طرح تسلیم کرنا چاہئے جس طرح خالق کائنات سب کو قبول کرتے ہیں۔
آئیے ہولی اس مقدس تہوار پر ہم سب اپنے اندر کی برائیوں کو جلا کر اور ایک دوسرے پر محبت اور بھائی چارگی کا رنگ ڈالتے ہوئے حیات انسانی کے اہم ترین مقصد کو حاصل کریں۔
پھاگن مہینے میں ہر طرف پھول کھل آتے ہیں اور بڑی رنگ برنگی بہار ہوتی ہے۔ ہولی کا تہوار اسی پھاگن مہینے میں بڑے جوش و خروش او ر جذبہ کے ساتھ ماےا جاتا ہے۔جس میں لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر ہولی کی مبارکباد دیتے ہیں۔ اس طرح ہولی کے تہوار کا ظاہری پہلو جس کے تحت ایک دن ’ہولیکا‘ جلائی جاتی ہے اور اس کے اگلے دن ایک دوسرے پر رنگ و گلال ڈال کر اس تہوار کو روایتی طور سے منایا جاتا ہے۔ لیکن اس کی ایک روحانی اہمیت بھی ہے۔
دنیا میں ہمیشہ ہی ایک دور چلتا رہتا ہے حق و باطل کی ہمیشہ لڑائی ہوتی رہتی ہے حق کو دبانے کے لئے باطل ہمیشہ ہی بڑی کوشش و سعی کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے دب جائے یا چھپ جائے مگر درحقیقت حق ایک ایسی چیز ہے جو کبھی بھی چھپ نہیں سکتا ہے کیونکہ خالق کائنات دنیا کی شروعات میں حق تھے ، آج بھی حق ہیں اور رہتی دنیا تک حق ہی رہیں گے۔
ہولی کے سلسلے میں ایک پرانی روایت ہے۔ بھکت پرہلاد کے والد ’ہرنا کشیپ‘ جو اپنے آپ کو کہتے تھے کہ میں خدا (پرماتما) ہوں سب لوگ میری عبادت کرو۔جو لوگ غرض مند تھے جو اصولے سے گرے ہوئے تھے انہوں نے ’ہرناکشیپ‘ کی بات تسلیم کرلی اور انھیں خدا و پرماتما کی حیثیت سے قبول کر لیا۔لیکن بھکت پرہلاد جو حقیقی خالق کائنات کو ماننے والے تھے اور انھیں کی پوجا و عبادت کرنے والے تھے، انہوں نے اپنے والد کی بات کو تسلیم نہیں کی اور انہیں ایک عام انسان ہی مانتے تھے اور حقیقی خالق کائنات کی عبادت کرتے رہے خواہ ان کے والد نے ان پر کتنا ہی ظلم کیو ں نہ کیا اور ان پر کتنی ہی سختیاں کیوں نہ کی لیکن انہوں نے ان سب کا کچھ بھی خیال نہیں کیا ۔
جب بھکت پرہلاد نے اپنے والد کو کسی بھی طرح’پرماتما‘ تسلیم نہیں کیا تو انہیں جان سے مار دینے کی ترکیب سوچی گئی۔ ’ہرنا کشیپ‘ کی ایک بہن تھی،’ہولیکا‘۔ جس کو یہ’ وردان‘ ملا تھا کہ اگر وہ آگ میں بیٹھے تو بھی وہ جل نہیں سکتی، اس نے سوچا کہ وہ پرہلاد کو لی کر آگ میں بیٹھ جائے گی پرہلاد جل جائے گا اور وہ محفوظ رہے گی۔ اسی بات پر عمل کیا گیا لکڑیوں کا انبار لگایا گیا اس میں آگ لگا دی گئی اور ’ہولیکا ’ پرہلاد کو گود میں لے کر آگ کے بیچ میں بیٹھ گئی ۔آخر کار اگلے دن دیکھا گیا کہ پرہلاد محفوظ تھا اور ’ہولیکا ‘ جل گئی تھی۔ اسی واقعہ کی یاد میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ حق کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے اور باطل کو ہمیشہ ہی شکست کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
سنتوں کے مطابق ہولی جلانے کی روحانی اہمیت یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں کو جلا کر نیک اور ایماندارانہ زندگی بسر کریں اور جس طرح ہم باہر ایک دوسرے پر رنگ گلال ڈال کر اس تہوار کو مناتے ہیں اسی طرح ہم مکمل ’گرو‘ کی مدد سے مراقبہ’ میڈیٹیشن‘ کے ذریعہ اپنے اندر’پربھو‘ کے مختلف رنگوں کو دیکھ کر حقیقی ہولی کھیلیں۔
اس تہوار کا دوسرا پہلوں ایک دوسرے کو رنگ لگانا بھی ہے اس تہوار کے دن لوگ سفید کپڑے پہنتے ہیں اس میں بھی ایک روحانی پہلو ہے۔ سفید رنگ میں دیگر تمام رنگ شامل ہیں اسی طرح ’پربھو‘ ہم سب کے اندر ہیں۔ جس طرح سفید رنگ سبھی رنگوں کا وسیلہ ہے اسی ’پربھو’ یا پرمیشور ساری دنیا کا وسیلہ ہیں۔
اس سلسلے میں ایک نو بہاتا جوڑے کی کہانی ہے۔ یہ جوڑا اپنی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت ہی پیار و محبت سے رہتے تھے لیکن کچھ دن گذرنے کے بعد وی ایک دوسرے کی غلطیوں خامیوں کو دیکھ کر باہم بحث کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کی زندگی میں باہمی خلوص و محبت میں کمی آنے لگی اور ان کی زندگی بے لطف ہو گئی۔ ان کے کنبے کی ایک بزرگ خاتون نے ان کی زندگی میں اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ان میں پھر سے محبت پیدا کرنے کے لئے انہیں ایک پارک میں کھانے پر مدعو کیا۔ اس جوڑے نے مختلف قسم کے کھانوں اور خوبصورت ماحول کا لطف اٹھایا۔ اس کے بعد اس جوڑے سے بزرگ خاتون نے ڈھلتے ہوئے سورج کو دیکھنے کو کہا جو دھیرے دھیرے مختلف قسم کے رنگوں، نیلے ،سنگتری، پیلے اور گلابی میں تبدیل ہو کرماحول کو خوبصورت بنا رہا تھا۔بزرگ خاتون نے اس منظر کو دیکھ کر کہا ’’ کتنا خوبصورت نظارہ ہے‘‘ جے اس جوڑے نے تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد بزرگ خاتون نے کہا کہ’’ میں نے آپ میں سے کسی سے بھی نہیں سنا کہ وہ خالق کائنات سے دعا کرے کہ ان رنگوں کی سمت کو تبدیل کر کے ڈھلتے سورج کی سرخی کو کم یا زیادہ کر دے۔‘‘ اگر خالق کائنات کے بنائے ہوئے ڈھلتے سورج کے اس نظارے کو ہم بغیر تبدیلی کے تسلیم کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح خالق کائنات نے ہم سب کو بنایا ہے تو ہمیں کسی میں کمی نہ دیکھتے ہوئے اسے خوشی خوشی قبول کرنا چاہئے۔
جس طرح ہولی میں مختلف رنگ ہمارے کپڑوں پر کئی رنگوں کی مختلف شکلیں بناتے ہیں۔ اور ہم ان شکلوں کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اسی طرح ہمیں اپنی زندگی میں ایک دوسرے کو محبت کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔ اگر ہم ایک دیش یا کمیونٹی کے ممبر ہیں تو ہمیں دوسرے کو اسی طرح تسلیم کرنا چاہئے جس طرح خالق کائنات سب کو قبول کرتے ہیں۔
آئیے ہولی اس مقدس تہوار پر ہم سب اپنے اندر کی برائیوں کو جلا کر اور ایک دوسرے پر محبت اور بھائی چارگی کا رنگ ڈالتے ہوئے حیات انسانی کے اہم ترین مقصد کو حاصل کریں۔
