حاجی محمد آزاد مرکز نظام الدین کے زیرِ صدارت پروگرام میں ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کا اہم خطاب
نئی دہلی، 18 مارچ 2026: جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر، مسجد عبدالنبی میں تکمیلِ قرآن کے موقع پر ایک بابرکت، روح پرور اور نورانی مجلس کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت مرکز نظام الدین سے تشریف لائے حاجی محمد آزاد نے فرمائی۔ اس محفل میں دہلی کے جید علما، قراء و حفاظ، معزز شخصیات اور جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ مرکز جماعت تبلیغ، بنگلہ والی مسجد کے اہم ذمہ داران کی شرکت نے مجلس کو مزید وقار بخشا، جن کا استقبال ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی نے گرمجوشی سے کیا۔
اس بابرکت موقع پر حافظ محمود بن مولانا حکیم الدین قاسمی نے گزشتہ سال کی طرح امسال بھی نمازِ تراویح میں قرآن کریم مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی، جبکہ سامع کے فرائض مولانا رفاقت نے حسنِ اہتمام کے ساتھ انجام دیے۔ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کی عظمت، اس کی لافانی برکات اور انسانی زندگی میں اس کے عملی نفاذ کی ضرورت کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قرآن مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ حیاتِ انسانی کے ہر گوشے کے لیے ایک مکمل دستورِ حیات ہے، اور اس کی تعلیمات پر عمل ہی حقیقی کامیابی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں جمعیۃ کی بے مثال جدوجہد اور قربانیوں کا بھی مؤثر تذکرہ کیا۔اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ہر شخص کا حافظِ قرآن ہونا ضروری نہیں، بلکہ قرآن سے کسی بھی درجے کی وابستگی چاہے وہ تلاوت کی صورت میں ہو، سماعت کی شکل میں یا محض دیکھنے کی حد تک—بھی بارگاہِ الٰہی میں باعثِ اجر و قبول ہے۔ انہوں نے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے تاریخی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن کریم کی حقانیت کو واضح کیا اور جماعت تبلیغ و جمعیۃ علماء ہند کے باہمی رشتے کی مضبوطی پر بھی روشنی ڈالی۔
مرکز جماعت تبلیغ، نظام الدین کے معزز مہمان مولانا نظر الاسلام (اڈیشہ) نے علما کی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اہلِ علم کو مساجد کو اپنا مرکز بنانا چاہیے اور عوام کو قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کلید ہے اور اس کے بغیر کسی قوم کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
دیگر مقررین میں ایم ایل اے عمران حسین (سابق وزیر حکومت دہلی)، مولانا محمد قاری جعفر (مہتمم مدرسہ یاسینیہ سراج العلوم کھوڈا مظفر نگر )، حافظ محمد قاسم (ناظم جمعیۃ علماء باغپت)، جمعیۃ علماء ہند کے سینئر آرگنائزر مولانا غیور قاسمی اور مولانا یاسین جہازی شامل تھے، جنہوں نے اپنے خطابات سے مجلس کو مزید معنویت بخشی۔اس موقع پر مولوی زید ندوی بن قاری عبدالسمیع کی ندوۃ العلماء سے تکمیلِ عالمیت پر ان کی اعزازی دستار بندی کی گئی، جبکہ تکمیل قرآن پر حافظ محمود اور مولانا رفاقت کی بھی دستار بندی عمل میں آئی جب کہ دس روزہ تراویح میں قرآن کریم مکمل کرنے والے حافظ ابوبکر اور سامع مولانا محمد کلیم الدین قاسمی کا بھی استقبال ہوا ۔ نعتِ رسول مقبول ﷺ کی سعادت حافظ محمود اور مفسر قرآن مولانا اخلاق حسین قاسمیؒ کے فرزند جناب اشفاق نجمی نے حاصل کی۔ مجلس کا اختتام حاجی محمد آزاد کی رقت انگیز دعا پر ہوا۔آخر میں جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری اور دینی تعلیمی بورڈ کے جنرل سکریٹری قاری عبدالسمیع نے مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔مجلس میں شریک اہم شخصیات میں مفتی ذکاوت حسین قاسمی، مولانا افتخار ہاپوڑ، مولانا سالم جامعی، مولانا قاری عارف قاسمی، مفتی خلیل احمد قاسمی، مولانا آفتاب عالم صدیقی، حاجی رئیس سیماپوری، حاجی نوشاد ابن بابا قاری سیف اللہ، مولانا عبدالقادر مظفرنگر، آصف قریشی بڈھانہ، مولانا جاوید صدیقی قاسمی، مولانا حافظ یوسف اعظمی،مولانا سلمان قاسمی ، حاجی زبیر پھل والے , اسد میاں، مولانا ضیاء اللہ قاسمی اور وسیم صدیقی (ایڈیٹر ہفت روزہ الامان)، مولانا اویس رشیدی ، مولانا ابو الہاشم آسام، مولانا شمس القمر ، مولانا اظہر ظفر مہوں، عبدالعلیم بھائی مسجد المتین برہم پوری، واصف صدیقی ، مولانا سیف علی ہاپوڑ ، حافظ نسیم بدرکھہ ، ایڈوکیٹ طیب خاں، سمیت دیگر معزز شخصیات شامل تھیں، جب کہ جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر کے کئی اہم ذمہ داران بھی اس بابرکت محفل کا حصہ بنے۔
