28.1 C
Delhi
مئی 13, 2026
Uncategorized

ایم ای پی ٹکٹوں کے خرید وفروخت کی مخالفت کرتی ہے: سپریمو

حیدر آباد میں لاکھوں فرضی ووٹ کو روکنا ہوگا:ڈاکٹر نوہیرا شیخ

نئی دہلی (نیوز ریلیز: مطیع الرحمن عزیز) حیدر آباد میں چالیس پچاس سال کی سیاست اور کرسی پر اگر کوئی براجمان ہے تو ملک اور اس کے باشندے یہ نہ سمجھیں کہ ُاس کی مقبولیت اِس میں کار فرما ہے۔ جب حیدر آبادی سیاست کی غنڈہ گردی کے تعلق سے لوگوں کے درمیان بات آتی ہے تو سننے والے کی یہی رائے ہوتی ہے کہ آخر کار وہ فرد خاص اور اس کے آبا واجداد برسوں سے کیسے جیتتے آ رہے ہیں، لیکن یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ نقاب کی آڑ میں، بوتھ کیپچر اور پولس انتظامیہ کی مدد سے ہائی جیک کرکے حیدر آباد میں کرسی چاہنے والوں نے اپنی غنڈہ گردی کے ذریعہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔ ابھی گزشتہ ودھان سبھا الیکشن میں جیتنے والے کئی ایم ایل اے کو جو غنڈوں کے پارٹی کے نہیں تھے، پولس کے ذریعہ تھانوں میں اٹھا کر بیٹھا لیا گیا اور نتیجہ کے طور پر ان کی مخصوص پارٹی کے حق میں جیت دلا دی گئی۔ لہذا ہمارا ارادہ ہے کہ حیدر آباد میں خاص طور سے بوتھ کیپچرنگ کے واقعات اور بوگس و فرضی ووٹوں کی دھاندھلی کو کم کیا جائے اور غنڈہ گردی کی سیاست کو ختم کرتے ہوئے صاف شفاف سیاست اور لیڈروں کو پارلیمنٹ اور ودھان سبھا میں بھیجا جائے تاکہ عوام کے کام ہوں اور غنڈہ گردی کا صفایا کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی کل ہند صدر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے حیدر آباد میں منعقد اپنے ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔
آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی سپریمو عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آج ہم نے دیکھا کہ ملک کی تمام پارٹیاں قیمتی داموں پر ٹکٹوں کو فروخت کر رہی ہیں۔ جب کہ معاشرے میں کئی ایک ایسے سماجی کارکن ہیں جو مقبولیت میں بَلا کی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے پاس عوامی مقبولیت ہوتی ہے، مگر ایسے لوگوں کو جو کہ علما بھی ہیں، پنڈت اور چرچوں کے پادری حضرات بھی ہیںانہیں ٹکٹ اس لئے نہیں دیا جاتا کیونکہ ان کے پاس پیسوں کی بڑی کھیپ موجود نہیں ہوتی۔ لہذا ہماری پارٹی آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ ہماری پارٹی سے ٹکٹ چاہنے والے لوگوں کو ان کی مقبولیت اور کام کے عوض الیکشن میں قسمت آزمائی کے لئے ٹکٹ فراہم کئے جائیں گے۔ ملک میں پیسوں کے لین دین اور رشوت خوری کا قلع قمع ہونا چاہئے، کیونکہ جب ایک لیڈر کروڑوں روپئے دے کر ٹکٹ حاصل کرتا ہے، اور میدان سیاست میں اپنے پیسوں کے بل بوتے ووٹوں کو خریدتا ہے تو ایسا شخص جیت کر اقتدار میں آنے کے بعد پہلے ان پیسوں کو حاصل کرے گا جو اس نے لگایا ہے، اور پھر یہ بات واضح ہے کہ جو شخص کروڑوں روپیہ خرچ کرکے آیا ہے وہ اس رقم کا کئی فیصد اضافی پیسہ حاصل کرے گا۔ اسی طرح سے لالچ کی اس دنیا میں آگے کی تیاریاں کرنے کے لئے بھی ایسا شخص جمع پونچی اکٹھا کرے گا کیونکہ آئندہ بھی اسے پارٹیوں کی بازار میں کروڑوں کے ٹکٹ حاصل کرنے ہوں گے، لہذا کل ملا ملک کے لئے کام صفر کے برابر ہو گا اور عوام و ملک خستہ حالی کے کگار پر ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔
عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کل ہند صدر آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں ملک میں کئی سماجی کارکنان دن رات بغیر کسی غرض کے لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن انہیں حکومتی ایوانوں کی جانب سے کسی طرح کی حوصلہ افزائی نہیں ملتی، اپنے ہی کندھوں پر بوجھ اٹھاتے ہوئے خودغرضی سے پاک سماجی کارکنان اپنی موت آپ مر جاتے ہیں، اسی لئے آج ملک میں سماجی کارکنوں کی دن بدن قلت ہوتی چلی جا رہی ہے، ہماری پارٹی آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے، اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ مشہور، قابل اور بلا کسی غرض کے سماجی کام کاج کرنے والوں کا ہم سے رابطہ کرائیں، تاکہ ایسے مخلص لوگوں کو حکومت کے ایوانوں تک پہنچانے میں مدد مل سکے۔ جب ایسے مخلص لوگ ایوان بالا تک پہنچیں گے تو خود بھی بدعوانی سے پاک ہوں گے اور بدعنوانی میں ملوث ملک دشمن عناصر کو سیاست سے نکال کر باہر کا راستہ دکھائیں گے۔ پھر خوشحالی ہمارے دیش کا مقدر ہوگی اور ہمارے ملک میں ہر امیر غریب امن کی زندگی گزارتے ہوئے اپنے بچوں کو تعلیم اور بیماروں کو صحت اور ضعیفوں کو پنشن اور دیگر سہولیات کا بندوبست کرا سکے گا۔
کل ملا کر آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی کل ہند صدر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ملک کی سیاست میں ایک ایسی سیاست کی طرف قدم بڑھا دیا ہے جو کہ برسوں سے عوام کی خواہش رہی ہے، اور ایک بات یہ بھی ضروری ہے کہ اگر انسان پیسے والا ہو تو ضروری نہیں ہے کہ وہ بھی بدعنوان ہو، مگر سیاست کی بازار میں ایک مخلص انسان بھی اسی رویے کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے جو عام طور پر ملک میں رائج ہوتی ہے۔ غور کرنے پر پتہ چلے گا کہ اگر سیاست اور الیکشنوں میں ٹکٹوں کے لئے لگائے جانے والے پیسے پارٹیوں کے کھاتوں میں جانے سے بچ جائیں تو بلا شبہہ وہ پیسے عوامی بہبود کے لئے خرچ ہوں گے ، اس طرح سے عوامی خزانہ اور سرکاری خزانہ دونوں ملک کر بھارت کی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔ عوام کو اس طرف پیش قدمی کرنی چاہئے اور مخلص لیڈران کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہئے۔

Related posts

منقسم دنیا کو ایک ساتھ لانا ہندوستان کی ذمہ داری۔ وزیر خارجہ

www.journeynews.in

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تین روزہ بھارت سرکاری دورے پر بھارت

www.journeynews.in

مسقط۔18؍ دسمبر۔ ایم این این۔وزیر اعظم نے آج مسقط میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ حاضرین میں مختلف بھارتی اسکولوں کے 700 سے زائد طلبہ شامل تھے۔ اس سال عمان میں بھارتی اسکولوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنی قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب میں بھارت میں موجود خاندانوں اور دوستوں کی جانب سے برادری کو پیغامات اور مبارکباد دیں۔ انہوں نے برادری کے شاندار اور گرمجوش استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عمان میں آباد مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں سے مل کر خوش ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ تنوع بھارتی ثقافت کی بنیاد ہے،ایسا قدر جو انہیں کسی بھی معاشرے میں شامل ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔بھارتی برادری کی عمان میں اعتماد اور مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگی اور تعاون بھارتی تارکین وطن کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، مانڈوی سے مسقط تک، اور آج یہ تعلقات تارکین وطن کی محنت اور ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جانیے کوئز میں بڑی تعداد میں حصہ لینے والی برادری کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علم بھارت-عمان تعلقات کا مرکز رہا ہے اور برادری کو ملک میں بھارتی اسکولوں کے 50 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے برادری کی فلاح و بہبود کے لیےعزت مآب سلطان حیثم بن طارق آل سعید کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم نے بھارت کی اصلاحاتی نمو اور ترقی، اس کی رفتار اور تبدیلی کے پیمانے، اور معیشت کی قوت پر بات کی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد نمو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ 11 سال میں حکومت کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، مینوفیکچرنگ، صحت کی سہولیات، گرین گروتھ، اور خواتین کی بااختیاری کے شعبوں میں ملک میں تبدیلیاں آئی ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت 21ویں صدی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس میں عالمی سطح کا اختراع، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوپی آئی، جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بنتا ہے، فخر اور کامیابی کا سبب ہے۔انہوں نے بھارت کی خلائی شعبے میں حالیہ شاندار کامیابیوں، چاند پر لینڈنگ سے لے کر منصوبہ بند گگن یان انسانی خلائی مشن تک روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبہ بھارت اور عمان کے تعاون کا ایک اہم حصہ ہے اور طلبہ کو اسرو کے یوویکا پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی، جو نوجوانوں کے لیےمختص ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت صرف ایک بازار نہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے،چاہے وہ اشیاء اور خدمات ہوں یا ڈیجیٹل حل۔وزیر اعظم نے تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں بھی اور جب بھی ہمارے لوگ مدد کے محتاج ہوں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔عمان شراکت داری مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی( میں تعاون، ڈیجیٹل لرننگ، انوویشن پارٹنرشپ، اور کاروباری تبادلے شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، گہرائی سے سیکھیں، اور جرات مندانہ اختراعات کریں تاکہ وہ انسانیت کی بھلائی میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

www.journeynews.in