25.1 C
Delhi
مئی 7, 2026
Uncategorized

ایک خوبصورت چین کے تصور کی تکمیل اور زمین پر موجود ہر زندگی کے لئے ایک مشترکہ مستقبل کی تعمیر

8 نومبر 2012ء کو  کمیونسٹ پارٹی آف چائنا  کی اٹھارہویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں پہلی بار "خوبصورت چین” کے نئے  طرز حکمرانی کے تصور کی تصدیق کی گئی تھی۔  وقت گزرتے  گزرتے  آج  پورے   بارہ سال ہو چکے ہیں. چینی صدر شی جن پھنگ نے اپنی تقریر میں ایک پرانی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا "جو کچھ آپ لیتے ہیں اسے محدود لے لیں ،   اور اسے کم سے کم استعمال  کریں” ۔صدر شی کے  کہے ہوئے یہ الفاظ  ماحولیاتی تہذیب کے حقیقی معنوں کا اظہار کرتے ہیں ، یعنی انسان اور فطرت کے ہم آہنگ بقائے باہمی کے ذریعے زیادہ پائیدار اور اعلی معیار کی ترقی حاصل  کی جائے ۔

حالیہ برسوں میں "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” کے تصور نے چین کے لئے سبز ترقی کی سمت کی نشاندہی کی ہے ، اعلی معیار کے حیاتیاتی ماحول کے ساتھ اعلی معیار کی ترقی میں تعاون کیا ہے ، انسان اور فطرت کے مابین ہم آہنگ بقائے باہمی کی جدیدکاری کو تیز کیا ہے ، اور  اس بات کی ضمانت دی ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے ہم نیلا آسمان، سبز زمین، صاف پانی اور زیادہ خوبصورت ماحول کے ساتھ  ایک   خوبصورت چین چھوڑ یں  گے.

صدر شی جن پھنگ  جب  صوبہ زے  جیانگ میں کام کر رہے تھے تو انہوں نے "ہزار وں مثالی اور خوبصورت  گاؤوں ”  نامی  منصوبے کا آغاز کیا  ۔ 26 ستمبر 2018 کو ، اس منصوبے کو  اقوام متحدہ کی جانب سے "چیمپئنز آف دی ارتھ” ایوارڈ   میں  "انسپائریشن اینڈ ایکشن ایوارڈ” سے نوازا گیا تھا۔سالوں کی مسلسل کوششوں نے خوبصورت ماحولیات سے لے کر ماحول دوست معیشت اور  خوشحال زندگی پر مشتمل  ہزاروں خوبصورت دیہات تعمیر  کیے ہیں   اور دیہی علاقوں کی جامع  احیا ءکو فروغ دینے کا کامیاب تجربہ اور عملی مثالیں تخلیق کی ہیں۔

چین کا سیہنبا فاریسٹ فارم، جو ریتیلی زمین پر واقع ہے، کبھی ایک وسیع صحرا ہوا کرتا تھا،لیکن  60سال سے زائد کی مسلسل جدوجہد کے بعد،  سیہنبا فاریسٹ فارم دنیا کا سب سے بڑا  مصنوعی جنگل بن گیا ، جسے  دیکھ کر  کہا جا سکتا ہے کہ ایک "سبز معجزہ”  تخلیق  ہوا ہے ۔ اسی وجہ سے سیہنبا فاریسٹ فارم کے معماروں  کو  اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ماحولیاتی اعزاز "چیمپیئنز آف دی ارتھ ایوارڈ” دیا گیا ۔

درحقیقت ، چین میں سیہنبا جیسی بہت سی کہانیاں ہیں ، ہزاروں گاؤوں   پروجیکٹ” سے لے کر سیچھوان جائنٹ پانڈا کنزرویشن بیس تک ، ڈیانچی جھیل اور ویسٹ جھیل کے تحفظ سے لے کر شینزین اور یان چھنگ جیسے شہروں  میں ویٹ لینڈ پارکوں کی تعمیر تک،    زمین کے ماحول کے تحفظ کے لیے چینیوں کی کوششیں مسلسل خوبصورت چین کا ایک نیا باب تخلیق کر رہی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا دنیا کے تمام ممالک کے لیے  ایک بڑا چیلنج ہے۔ حالیہ برسوں میں ، چین نے کاربن کے اخراج میں کمی کو فروغ دینا جاری رکھا ہے اور مقررہ وقت سے پہلے 2030 کاربن پیک ہدف حاصل کیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی قابل تجدید توانائی کی مارکیٹ چین میں ہے، دنیا کی سب سے بڑی نئی توانائی گاڑیوں کی مارکیٹ چین میں ہے، اور چین صاف توانائی کا سامان تیار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے. اپنی سبز ترقی اور سبز تبدیلی کو تیز کرتے ہوئے ، چین نے  زمین پر موجود ہر زندگی   کے لئے ایک مشترکہ مستقبل کی تعمیر  میں دوسرے ممالک کے ساتھ بھی  تعاون  کیا  ہے  اور سبز ترقی کی کئی کہانیاں رقم کی ہیں ۔

چین نے 42 ترقی پذیر ممالک کے ساتھ آب و ہوا کی تبدیلی پر 53 جنوب-جنوب تعاون کی  دستاویزات پر دستخط کیے ،  دنیا کو    ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا 60 فیصد سامان اور 70 فیصد  فوٹو وولٹک ماڈیول کا سامان فراہم کیا ہے۔ پاکستان میں چینی کمپنیوں کی جانب سے تعمیر کردہ ہائیڈرو پاور اور ونڈ پاور  منصوبے یکے بعد دیگرے فعال  ہو رہے ہیں جس سے مقامی لوگوں کو صاف اور سستی بجلی کے حصول میں مدد مل رہی ہے۔ ایک چینی انٹرپرائز کے ذریعہ شروع کیا گیا سی ایس پی   منصوبہ حال ہی میں جنوبی افریقہ میں گرڈ سے منسلک کیا گیا ہے ، جس سے مقامی علاقے کو صاف بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ چلی میں ، 2،000 سے زیادہ چینی ساختہ برقی بسیں مقامی لوگوں کے لئے کم کاربن آسان نقل و حمل فراہم کرتی ہیں۔ چین کی مدد سے چلنے والی ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس اور گھریلو شمسی توانائی کے نظام سے تقریبا 30 ہزار  فجی باشندے مستفید ہوئے ہیں۔ یہ  اور اس طرح کے کئی منصوبوں کی فہرست  کافی طویل ہے۔

جی 20، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم، اے پی ای سی اور دیگر فریم ورکس   کے تحت توانائی کی منتقلی اور توانائی کی کارکردگی میں بہتری پر تعاون میں شرکت، آب و ہوا کی تبدیلی پر ساؤتھ ساؤتھ کوآپریشن فنڈ اور کھون منگ بائیو ڈائیورسٹی فنڈ کا قیام، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو میں تعاون کے کلیدی شعبوں میں آب و ہوا کی تبدیلی اور سبز ترقی کو ضم کرنا، اعلی معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ  کی مشترکہ تعمیر کی حمایت کے لئے چین کے آٹھ اقدامات کے حصے کے طور پر سبز ترقی کو فروغ دینا، چین-افریقہ  "ٹاپ 10 شراکت داری اقدامات”  میں   گرین ڈیولپمنٹ پارٹنرشپ کی  شمولیت  وغیرہ وغیرہ ۔  چین  نے عالمی ماحولیاتی حکمرانی میں فعال طور پر حصہ  لیا ہے ،  ماحول اور ماحولیاتی تحفظ میں اپنے تجربے کو دوسرے ممالک کے ساتھ بانٹاہے، اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر  کے لئے ٹھوس اقدامات  کیے ہیں ۔

چین نے ایک خوبصورت چین کی تعمیر کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا ہے اور ایک صاف اور خوبصورت دنیا کی تعمیر کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔چین کے اس عمل نے بین الاقوامی برادری سے  وسیع پیمانے پر پزیرائی  حاصل کی ہے۔ جیسا کہ گریٹ گرین وال کے پین افریقی سیکریٹریٹ کے سینئر ڈائریکٹر مارسلان سانو نے کہا "چین انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کی جدیدکاری کو تیز کرے گا، اور زمین پر  موجود ہر  زندگی کے لئے ایک مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا جس سے عالمی پائیدار ترقی میں لامحدود تحریک پیدا  ہو گی.”

Related posts

مسقط۔18؍ دسمبر۔ ایم این این۔وزیر اعظم نے آج مسقط میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ حاضرین میں مختلف بھارتی اسکولوں کے 700 سے زائد طلبہ شامل تھے۔ اس سال عمان میں بھارتی اسکولوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنی قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب میں بھارت میں موجود خاندانوں اور دوستوں کی جانب سے برادری کو پیغامات اور مبارکباد دیں۔ انہوں نے برادری کے شاندار اور گرمجوش استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عمان میں آباد مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں سے مل کر خوش ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ تنوع بھارتی ثقافت کی بنیاد ہے،ایسا قدر جو انہیں کسی بھی معاشرے میں شامل ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔بھارتی برادری کی عمان میں اعتماد اور مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگی اور تعاون بھارتی تارکین وطن کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، مانڈوی سے مسقط تک، اور آج یہ تعلقات تارکین وطن کی محنت اور ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جانیے کوئز میں بڑی تعداد میں حصہ لینے والی برادری کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علم بھارت-عمان تعلقات کا مرکز رہا ہے اور برادری کو ملک میں بھارتی اسکولوں کے 50 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے برادری کی فلاح و بہبود کے لیےعزت مآب سلطان حیثم بن طارق آل سعید کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم نے بھارت کی اصلاحاتی نمو اور ترقی، اس کی رفتار اور تبدیلی کے پیمانے، اور معیشت کی قوت پر بات کی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد نمو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ 11 سال میں حکومت کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، مینوفیکچرنگ، صحت کی سہولیات، گرین گروتھ، اور خواتین کی بااختیاری کے شعبوں میں ملک میں تبدیلیاں آئی ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت 21ویں صدی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس میں عالمی سطح کا اختراع، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوپی آئی، جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بنتا ہے، فخر اور کامیابی کا سبب ہے۔انہوں نے بھارت کی خلائی شعبے میں حالیہ شاندار کامیابیوں، چاند پر لینڈنگ سے لے کر منصوبہ بند گگن یان انسانی خلائی مشن تک روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبہ بھارت اور عمان کے تعاون کا ایک اہم حصہ ہے اور طلبہ کو اسرو کے یوویکا پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی، جو نوجوانوں کے لیےمختص ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت صرف ایک بازار نہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے،چاہے وہ اشیاء اور خدمات ہوں یا ڈیجیٹل حل۔وزیر اعظم نے تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں بھی اور جب بھی ہمارے لوگ مدد کے محتاج ہوں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔عمان شراکت داری مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی( میں تعاون، ڈیجیٹل لرننگ، انوویشن پارٹنرشپ، اور کاروباری تبادلے شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، گہرائی سے سیکھیں، اور جرات مندانہ اختراعات کریں تاکہ وہ انسانیت کی بھلائی میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

www.journeynews.in

سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا کی پروموشنل ویڈیو کی متعدد ممالک میں نمائش

www.journeynews.in

راج ناتھ سنگھ کی واشنگٹن ڈی سی میں امریکی قومی سلامتی مشیر جناب جیک سولیوان سے ملاقات

www.journeynews.in