جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ اور کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کا سالانہ تعلیمی مظاہرہ تزک و احتشام کے ساتھ اختتام پذیر
مغربی چمپارن، بہار
’’تعلیم ہی وہ چراغِ راہ ہے جس کی روشنی سے قوموں کی تقدیر سنورتی ہے، اور کسی بھی وطن یا دیش کی حقیقی ترقی کا دار و مدار وہاں کے باشندوں کے تعلیم یافتہ ہونے پر ہوتا ہے۔ درحقیقت ترقی کی تمام شاہراہیں علم کے دروازے سے ہو کر گزرتی ہیں۔ اگر ہم اپنی نئی نسلوں کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنی آئندہ نسلوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر رہے ہیں، بلکہ اپنے وطنِ عزیز ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں‘‘۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ کے چیئرمین مولانا محمد اظہر مدنی نے مغربی چمپارن، بہار کے قریہ برندابن میں منعقدہ جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ للبنین اور کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کے نادی الطلبہ ’’اصلاح البیان‘‘ سے خطاب کے دوران کیا۔
مولانا نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں دنیا کی قومیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو علم و آگہی سے آراستہ کریں اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم ہی وہ جوہر ہے جو انسان میں دیش پریم پیدا کرتا ہے، وطن اور اہل وطن سے محبت، امن و سکون، شانتی، رواداری اور قوتِ برداشت کو فروغ دیتا ہے، اور فرد کو خود بھی ان اوصاف سے مزین کرتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بناتا ہے۔اس ادارہ میں ایمانی و روحانی تعلیم کی آمیزش ’’دین و دنیا بہم آمیز کہ اکسیرشود‘‘ کے مصداق بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ خلوص، جدوجہد اور مسلسل محنت کا ثمر ہے۔ طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے دینی، ثقافتی اور سماجی پروگرام اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ادارہ ہمہ جہت تربیت کا مرکز بن چکا ہے۔
اس موقع پر مولانا محمد اظہر مدنی نے اپنے والدِ محترم اور ادارے کے بانی حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کے لیے اظہارِ احترام کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ باغ ہے جو ان کی محنت سے تناور درخت بن چکا ہے، اور اہلِ خیر کے تعاون سے یہ ادارہ آئندہ بھی نسلِ نو کی علمی و اخلاقی تربیت کا فریضہ انجام دیتا رہے گا۔
اس سے قبل جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ اور کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کے نادی الطلبہ و الطالبات کے زیرِ اہتمام ایک مشترکہ تعلیمی و ثقافتی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں طلبہ و طالبات نے اپنے علمی و فکری جوہر بھرپور انداز میں پیش کیے۔ پروگرام کا آغاز پُرسوز قراءت سے ہوا، جس کے بعد جامعہ کے ہونہارطلبہ محمد عرفان محمد ارمان، محمد سرفراز صغیرمیاں، محمد قیس محمد ریاضل اور فیروز عالم سکندر علی نے بالترتیب اردو، عربی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں مؤثر تقاریر پیش کیں۔ اسی طرح محمد سہیل محمد امین اور محمد افضل شمس الحق نے خوش الحانی کے ساتھ حمد و نعت پیش کرکے محفل کو روحانی کیفیت سے ہمکنار کیا۔
کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کی طالبات روبینہ خاتون مسافرمیاں، ام کلثوم امیر الہدی، ثانیہ وصی احمد اور گلستارہ مقصود نے اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں پُراعتماد تقاریر پیش کیں، جبکہ رخسار علی امام، سمرن وصی احمد، روشن خاتون اور رابعہ خاتون علی حسین نے نعت اور نظم کے ذریعے سامعین کے دل علم و ایمان سے معمور کیا۔ رضیہ پروین اور ان کی رفقاء نے مترنم آواز میں قومی ترانہ پیش کیا، جبکہ طالبات کے ایک گروپ نے نہایت عمدہ انداز میں تمثیلیہ پیش کر کے خوب دعا و مبارک باد کے مستحق ٹھہری۔
ان تمام پروگراموں کو موضع برندابن اور اطراف و اکناف سے تشریف لائے حاضرین نے نہایت توجہ اور دلجمعی سے دیکھا اور سنا۔ انہوں نے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں دیں، اساتذہ و معلمات کی محنتوں کو سراہا، ذمہ دارانِ جامعہ و کلیہ کی ستائش کی اور ادارے کی ترقی و استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس پروگرام میں علمی، سیاسی اور سماجی حلقوں کی متعدد اہم و معزز شخصیات نے شرکت فرما کر اس اجتماع کو وقار بخشا۔ ان میں صوبائی جمعیت اہلِ حدیث بہار کے امیر مولانا محمد علی مدنی، ضلعی جمعیت اہلِ حدیث مغربی چمپارن کے ناظم مولانا محمد ہاشم فیضی، مولانا مجیب الرحمن چترویدی،شمس الحق فیضی، مولانا انیس الرحمن فیضی، مولانا امیر الہدیٰ فیضی، مولانا اسلم سلفی، مولانا سمیع اللہ تیمی، ماسٹر اکرام الحق، مولوی توقیر عالم، ڈاکٹر شعیب، علاقہ کے مکھیا کملیش یادو، ماسٹر داود حسین، عبدالسلام، مطیع الرحمن ، امان اللہ، گڈو الیاس، شبیر عالم وغیرہ بطورِ خاص موجود تھے۔
اس باوقار پروگرام کی صدارت مولانا محمد علی مدنی نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے جامعہ کے طلبہ اور کلیہ کی طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے علمی و فکری مظاہروں کو نہایت مفید، منظم اور قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے جامعہ کے موسس فضیلۃ الشیخ اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کے فرزندِ ارجمند و ادارے کے ذمہ دارِ اعلیٰ مولانا محمد اظہر مدنی کو اس کامیاب تعلیمی و ثقافتی مظاہرے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ اور کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات دونوں ادارے صحیح سمت میں گامزن ہیں، جہاں دینی و دنیوی تعلیم نہایت باصلاحیت اور تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں دی جا رہی ہے، جس کے خوشگوار نتائج روز بہ روز بچوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ جل شانہ ان اداروں کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور انہیں ملت و ملک کے لیے مفید و مؤثر بنائے۔
اس پروگرام کی نظامت مولانا محمد ہاشم فیضی نے نہایت خوش اسلوبی اور حسنِ ترتیب کے ساتھ انجام دی۔ تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ادارے کے قیام ہی سے اس کے ساتھ وابستہ ہیں اور اپنی آنکھوں سے اس کی ہمہ جہت ترقی کے مناظر دیکھتے آئے ہیں۔ انہوں نے اس عزم و یقین کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ ادارہ آئندہ بھی ترقی و کامرانی کی نئی منازل طے کرتا رہے گا۔
مولانا امیر الہدیٰ فیضی نے طلبہ و طالبات کی شاندار کارکردگی کو خوب سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اب ایک مثالی اور معتبر تعلیمی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس پر اس کے ذمہ داران بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
مولانا شمس الحق فیضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ کئی برسوں سے اس ادارے کے تعلیمی پروگراموں میں شریک ہوتے آ رہے ہیں اور انہیں اس بات پر بے حد مسرت ہے کہ ہر سال طلبہ کا پروگرام سابقہ سال کے مقابلے میں زیادہ بہتر، منظم اور معیاری ہوتا ہے۔
مولانا سمیع اللہ تیمی صاحب نے طلبہ کی محنت اور صلاحیتوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے انہیں تلقین کی کہ وہ محنت، یکسوئی اور اخلاص کے ساتھ تعلیم حاصل کریں اور اپنے کردار و عمل سے ادارے اور اس کے ذمہ داران کی نیک نامی کا ذریعہ بنیں۔
اس کے علاوہ دیگر معزز مہمانوں نے بھی اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا اور متفقہ طور پر ادارے کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ادارے کے ذمہ دارِ اعلیٰ، جواں سال عالمِ دین مولانا محمد اظہر مدنی کی تعلیمی خدمات، اخلاص اور مسلسل جدوجہد کو سراہا۔
