مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ،پٹنہ
امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کا دوسرا دور ان کی دادا گیری اور دہشت گردی کے لیے یاد رکھا جائے گا، دنیا میں امن کے قیام کے لیے نوبل پرائز کا خواہش مند نہ صرف غزہ میں جنگ کی آگ بھڑکانے اور فلسطینیوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کی مہم چلا رہا ہے، بلکہ روس یوکرین جنگ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے طویل ہوتی جارہی ہے، ٹیرف کو وہ ایک ہتھیار کی طرح استعمال کر رہا ہے، دادا گیری اور دہشت گردی کا تازہ واقعہ ونزوویلا کا ہے، جہاں اچانک حملہ کرکے امریکہ نے وہاں کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کرلیا، صدر کو ہتھکڑیاں پہنا کر امریکہ لے آیا اور وہاں کی جیل میں ڈال دیا اور اب ان پر منشیات اور اسلحوں کی اسمگلنگ کا مقدمہ شروع ہوگیا ہے، ان کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا اور شاید ان کا حشر وہی ہو جو امریکہ نے عراق کے صدر صدام حسین کے ساتھ کیا تھا، یہ ایک اچھی بات ہے کہ وینزویلا کی سپریم کورٹ نے وہاں کے نائب صدر کو ڈیلسی روڈ ایگز کو کار گذار صدر بناکر حکومت ان کے حوالہ کردیا ہے، کورٹ نے مادورو کو معزول یا برخواست نہیں کیا ہے، کیونکہ ایسا کرنے پر تیس دن کے اندر وہاں انتخاب کرانا ضروری ہوجاتا، صدر مادورو کو برخواست نہ کرنا یہ بتاتا ہے کہ وہاں کی عوام، افواج اور سپریم کورٹ کی ہمدردیاں صدر مادورو کے ساتھ ہیں، پوری دنیا نے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، ہندوستان کو بھی اس پر تشویش ہے، سب کا مطالبہ ہے کہ یہ امریکہ کو مادورو کو رہا کرنا چاہیے اور ان کی حکومت بحال ہونی چاہیے۔
وینزویلا ایک صدارتی جمہوری ملک ہے، جو تئیس (23) ریاستوں، کیپٹل ڈسٹرکٹ اور وفاقی علاقوں پر مشتمل جنوبی امریکہ کے شمال میں واقع ہے، یہاں کی سرکاری زبان اسپینش، رقبہ 912050، دارالحکومت کراکر اور مجموعی آبادی 31250306 مرد وخواتین پر مشتمل ہے، 1522ء میں اس علاقہ کو اسپین نے اپنی نو آبادیات میں شامل کیا تھا، یہ 1811ء میں اسپین سے آزاد ہوکر وفاقی جمہوریہ کولمبیا کا حصہ بنا، 1830 میں اس نے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا، انیسویں اور بیسویں صدی کے وسط تک علاقائی فوجی آمروں کا غلبہ رہا، 1958 کے بعد وینزویلا ایک جمہوری ملک کے طورپر متعارف ہوا، 1980اور 1990 کے عشرے میں اقتصادی بدحالی کی وجہ سے یہاں بدامنی پیدا ہوئی، جن میں 1989 کا مہلک کارا کار وفساد، 1992میں بغاوت کی دو کوششیں اور حکومت پر عوامی فنڈ کے غبن کا الزام خاص طورپر قابل ذکر ہے، 1998 میں بولپویرین انقلاب کا خاتمہ ہوگیا، 1999 میں وینزویلا میں نیا آئین نافذ ہوا، 2010 میں معاشی عدم مساوات کی وجہ سے یہاں کے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی، 2013 کا صدارتی انتخاب متنازع رہا اور عوام کی طرف سے احتجاج و مظاہرے کا سلسلہ شروع ہوا، دھیرے دھیرے جمہوری ملک آمرانہ رویوں میں تبدیل ہوگیا، کہا جاتا ہے کہ صدر نکولس مادورو کا رویہ بھی جمہوری سے زیادہ آمرانہ تھا۔
وینزویلا ایک ترقی پذیر ملک ہے، یہاں تیل کے بڑے ذخائر ہیں، جس پر امریکہ کی نظر ہے، یہاں کافی اور کوکوکی پیداوار ہوتی ہے، جس کی برآمدگی سے بھی اچھی خاصی رقم آتی ہے، لیکن آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے معیشت تباہ ہوگئی ہے، افراط زر، بنیادی اشیاء کی قلت،بے روزگاری، غربت، بیماری، بچوں کی شرح اموات، سنگین جرائم اور بدعنوانی کی وجہ سے ملک میں بدامنی اور بے چینی پائی جاتی رہی ہے، تین کروڑ کی آبادی والا یہ ملک امریکہ سے صرف ساڑھے چار ہزار کلومیٹر دور ہے اور امریکہ مخالف فلسطین اور ایران کا زبردست حامی ہے۔
امریکہ نے اپنی دادا گیری کے سہارے وینزویلا کی راجدھانی کراکس کے ایربیس پر حملہ کیا، جہاں سے وہاں کے صدر اور نکولس مادرو اور ان کی اہلیہ کو آسانی سے پکڑ کر امریکہ لے آیا گیا اور اب انہیں امریکی عدالت میں منشیات اور اسلحوں کی اسمگلنگ جیسے فرد جرم کا سامنا ہے، اس رات کئی علاقوں پر حملے ہوئے، چالیس سے زائد بے گناہ بھی اس حملے کی زد میں آئے اور اب امریکہ، ایران، کیوبا، کولمبیا اور میکسیکو کو ایسے ہی حشر سے ڈرا اور دھمکا رہا ہے، وینزویلا پر تعاون نہ کرنے صورت میں مزید حملوں کی دھمکی مل رہی ہے، ان دھمکیوں کے نتیجے میں قائم مقام صدر ڈپلسی روڈ انگز نے امریکہ کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے اور اپنے پر امن تعلقات رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، پورے خطہ میں حالات دھماکہ خیز ہیں، واشنگٹن کے خلاف لاطینی امریکی ممالک کو متحد ہونے کی تجویز کولمبیا نے رکھی ہے، امریکی صدر کے گرین لینڈ پر قبضہ کی بات کا ڈنمارک نے سخت نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی صدر گرین لینڈ کو دھمکیاں دینا بند کریں۔
طاقت ور ملکوں کی طرف سے پڑوسی اور نسبتاً کمزور ملک کے خلاف کاروائی کوئی نئی نہیں ہے، ایسے واقعات پناما میں 1989، افغانستان میں 2001، عراق میں 2003، حماس کے ساتھ 2006، لبیبا 2011، یوکرین 2022 اور ایران میں 2024 میں ہوئے، جہاں جمہوری حکومتوں کو امریکی افواج کے ذریعہ گراکر حکمرانوں کو قتل کیا گیا یا پھانسی پر چڑھا دیا گیا، یہ ممکن نہیں ہوا تو ملک کو خانہ جنگی کی آماجگاہ بنا دیا گیا، اس سلسلہ کی اب جو نئی لہر پیدا ہوئی ہے، اس نے پوری دنیا کو حیران و ششدر کررکھا ہے، بہت سارے سیاسی تجزیہ کار اسے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی افواج کے ذریعہ ”آپریشن ایب سُلیوٹ رزلٹ“ کی انجام دہی اور صدر نکولس کی گرفتاری سے امریکہ کو جو فائدہ پہونچتا ہے، وہ وینزویلا کے وسیع تیل ذخیرہ کے ساتھ چین کے بڑھتے اثرات کو لاطینی امریکی خطے میں کم کرنا، بلکہ روکنا بھی شامل ہے، امریکی صدر نے کئی لاکھ بیرل تیل وینزویلا سے مفت دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کی مالیت کروڑوں ڈالر میں ہے، چین کے لیے یہ اس لیے ناقابل قبول ہے کہ وہاں اس نے بڑی سرمایہ کاری کررکھی ہے، اس سے چین کے مفاد کو زک پہونچے گی، اس حملہ سے امریکہ مخالف روس اور ایران کو یہ پیغام بھی دینا ہے کہ ہم اپنے مفاد کے لیے کسی حد تک جاسکتے ہیں، ہمارے نزدیک عالمی ضابطہ اخلاق کی کوئی معنویت نہیں ہے، جہاں تک بھارت کا معاملہ ہے، اس سے اس کو تیل کی برآمدگی میں فائدہ پہونچے گا، کیونکہ جب وینزویلا کے تیل کے ذخائر امریکہ کے قبضہ میں آئیں گے تو اس کی درآمد بڑھے گی اور قیمتیں گھٹیں گی، بھارت تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے، قیمتوں کے گھٹنے کا فائدہ بھارت کو ملے گا، خصوصاً اس صورت میں جب بھارت روس سے تیل خریدنے میں کمی لارہا ہے، کیوں کہ ڈونالڈ ٹرمپ یہی چاہتے ہیں، ایسے میں اسے نئے ملک سے تیل خریدنے کی ضرورت ہوگی اور وہ امریکہ ہوسکتا ہے، امریکہ کے لیے بھی یہ کام آسان نہیں ہوگا، کیوں کہ وہاں پوری دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا صرف ایک فی صد برآمد ہوتا ہے، اس کی وجہ تیل کو کارآمد بنانے کے لیے آلات اور کمپنیوں کی کمی ہے، اس لیے اس سمت میں امریکہ کے اس عمل سے سرد جنگ میں اضافہ ہوگا، جو کبھی بھی گرم جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
