12.1 C
Delhi
فروری 5, 2026
Delhi

مدرسہ تعلیمُ القرآن، تکیہ کالے خاں میں شاندار جلسۂ دستار بندی، حفاظِ قرآن کی عظمت کو خراج عقیدت

جلسے کی صدارت مدرسہ کے بانی و مہتمم اور جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے کی، دینی و عصری تعلیم کے متوازن تصور پر زور

نئی دہلی : ۲ فروری دہلی کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ تعلیمُ القرآن، تکیہ کالے خاں، میر درد روڈ، نئی دہلی میں ایک جلسۂ دستار بندی کا انعقاد کیا گیا، جس میں قرآنِ کریم کے حفاظ کی عظمت اور دینی تعلیم کی اہمیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ اس روح پرور اجتماع کی صدارت مدرسہ کے بانی و مہتمم اور جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا فیاض قمر ارریاوی نے انجام دیے۔
جلسے کا آغاز مدرسہ کے سابق طالب علم حافظ سفیان کی دلنشیں تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جبکہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں نذرانۂ عقیدت معروف نعت خواں و شاعر مولانا فیصل میرٹھی نے پیش کیا۔ اس موقع پر پانچ حفاظِ کرام کی دستار بندی عمل میں آئی، جس پر حاضرین نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
پروگرام تین نشستوں پر مشتمل رہا۔ پہلی نشست میں مدرسہ کے طلبہ نے قرأت، نعت اور تقاریر پیش کیں۔ دوسری نشست میں مدرسہ کے تحت چلنے والے مکتب کے طلبہ و طالبات نے نہایت خوش اسلوبی سے قرأت، نعت اور مکالمے پیش کر کے سامعین سے داد وصول کی۔ تیسری نشست میں علماء کرام نے مختلف دینی و اصلاحی موضوعات پر جامع اور پرمغز خطابات کیے۔
مولانا قاسم نوری قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ قرآنِ کریم کو حفظ کرنا اور اسے سینوں میں محفوظ رکھنا دین کی نشر و اشاعت کا نہایت اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک حافظِ قرآن اپنی شفاعت کے ذریعے کئی لوگوں کی نجات کا سبب بن سکتا ہے۔ مولانا نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی اولاد کو قرآنِ کریم کی تعلیم سے آراستہ کریں، کیونکہ یہی دنیا و آخرت کی سب سے بڑی متاع ہے۔
انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ آج قرآن کے پڑھنے اور پڑھانے کی طرف مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ساتھ ہی انہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے حصول کی بھی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکابر نے کبھی انگریزی یا جدید تعلیم سے منع نہیں کیا، بلکہ دینی اقدار کی روشنی میں عصری علوم حاصل کرنے پر زور دیا—تعلیم حاصل کی جائے مگر انگریزیت غالب نہ ہو؛ ہماری تہذیب و ثقافت دینی و شرعی رہے۔
درایں اثنا، مولانا قاسم نوری قاسمی کے جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر منتخب ہونے پر جمعیۃ کے عہدیداروں، علاقہ کے علما، ائمہ اور عوام و خواص نے خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پُرجوش استقبال کیا۔جلسے سے خطاب کرنے والوں میں دارالعلوم کے استاذ مولانا محمد افضل کیموری، جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا عظیم اللہ صدیقی ، مولانا ڈاکٹر عادل جمال ندوی، مولانا نثار قاسمی، مولانا قاری احرارالحق جوہر قاسمی (ایڈیشنل جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی)، مولانا محمد یوسف قاسمی سکریٹری جمعیۃعلماء صوبہ دہلی، مولانا قاری عارف قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی اور دینی تعلیمی بورڈ صوبہ دہلی کے جنرل سکریٹری قاری عبدالسمیع شاہی قاسمی شامل تھے۔
خصوصی شرکا میں مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند سے مولانا ضیاء اللہ قاسمی، مولانا یاسین جہازی، حاجی مبشر صاحب، حافظ افضل، دہلی سے مولانا جاوید صدیقی قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مولانا غیاث الدین مظاہری، محمد رفیق عرف لڈو (نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع نئی دہلی)، مولانا جمشید (ناظم تعلیمات، مدرسہ بیت العلوم و نائب صدر جمعیۃعلماء شمال مشرقی دہلی)، مولانا رضوان انجم قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء جمعیۃعلماء شمال مشرقی دہلی، قاری دانش ناظم جمعیۃعلماء جنوب مغربی دہلی، قاری توحید عالم، حافظ نوشاد اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔
اسی موقع پر جمعیت علماء صوبہ دہلی کے ناظمِ تنظیم مفتی انصار الحق قاسمی کا نکاح دارالعلوم کے استاد مولانا افضل کیموری نے پڑھایا۔ پروگرام کی کامیابی میں اساتذہ مدرسہ ہذا مولانا جاوید رشیدی، قاری عبدالحلیم، قاری محمد تہذیب عالم، حافظ محمد سفیان نوری اور حافظ عبدالرحمن نے اہم کردار ادا کیا۔آخر میں مدرسہ شمس العلوم، شاہدرہ کے شیخ الحدیث مولانا مرتضیٰ قاسمی نے ملک و قوم کی فلاح و کامرانی کے لیے دعا کرائی۔

Related posts

ہمارے ملک میں اب 1000 کلومیٹر سے زیادہ میٹرو نیٹ ورک ہے۔ مودی

www.journeynews.in

قیادت کیے جانے سے، ہندوستان دوسروں قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ

www.journeynews.in

دہلی فسادات 2020: پانچ مسلم نوجوان باعزت بری، عدالت کا پولس پر سخت تبصرہ صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے وکلاء کی جدوجہد کی ستائش کی ۔جمعیۃ کی قانونی پیروی سے ہنوز سو سے زائد افراد باعزت بری ہوچکےہیں۔

www.journeynews.in