اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں دیپک کمار پر ایف آئی آر واپس لی جائے
شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ غربائ اور مساکین کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں کچھ پیشہ ور چندہ کی رسیدیں لے کرآ جاتے ہیں لہذا تحقیق کر کے مستحقین کی مدد کریں ورنہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
مفتی مکرم نے وزیراعلی آسام کے حالیہ فرقہ پرستانہ بیانات کی شدید مذمت کی افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ آئینی منصب پر ہونے کے باوجود ایک خاص فرقہ کے خلاف زہر افشانی کرتے رہتے ہیں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر میاں امن چاہتے ہیں تو یہاں سے چلے جائیں ایک سرکاری تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دھمکی آمیز لہجے میں کہا میاں غیر قانونی بنگلہ دیشی ہیں اور انہیں ریاست میں امن و سکون کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ جب تک میں آسام میں ہوں انہیں مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا وہ یہاں امن و سکون سے نہیں رہ سکتے ہم ان کے لیے مشکلیں پیدا کریں گے تبھی وہ یہاں سے جائیں گے۔ وزیراعلی نے نہ صرف بیان دیا بلکہ آسام کے عوام کو بھی ورغلاتے ہوئے کہا کہ میاں بھائیوں کو جتنا پریشان کر سکتے ہو کرو میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ نفرت انگیز تقریر کرنا سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے برخلاف ہے تو پھر ایکشن کب؟ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔
مفتی مکرم احمد نے کہا کہ اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک مسلم تاجر کی دکان پر کچھ فرقہ پرستوں نے حملہ کرنے کی کوشش کی اس بزرگ تاجر کے برابر میں جم مالک دیپک کمار نے تاجر کی حمایت کی جس پر وہ لوگ بھڑک گئے دیپک کمار پر حملہ کے لیے فرقہ پرست بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور دھمکیاں دیں۔ پولیس کے سامنے یہ سب کچھ ہوا پھر بھی پولیس نے نامعلوم افراد پر ایف آئی آر درج کی اور دیپک کمار پر بھی ایف آئی آر کر دی ہمارا مطالبہ ہے کہ دیپک کمار کی ایف آئی آر کینسل کی جائے اس نے کوئی جرم نہیں کیا تو ایف آئی آر کیوں اور فرقہ پرستوں پر سخت کارروائی کی جائے ۔
