حاجی پور 19/فروری (پریس ریلیز) رمضان المبارک کی آمد پر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ نے ایک خاص پیغام دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر کام کا سیزن اور موسم ہوتا ہے اور اپنے اپنے متعلقہ کاموں کے سیزن کا لوگوں کو انتظار رہتا ہے، کیوں کہ اس کی نفع بخشی سے کا روبار زندگی میں رونق آتی ہے اور سال بھر معاشی زندگی پر اس کے اثرات باقی رہتے ہیں ، ایمان والوں کو بھی ایک سیزن کا انتظار رہتا ہے اور وہ سیزن ہے نیکیوں کے موسم بہار کا، جسے ہم رمضان المبارک کے نام سے جانتے ہیں ، اس موسم کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ شر پھیلانے والی بڑی قوت شیطان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے، خیر کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، قلب و نظر اور ذہن و دماغ پر اس سیزن کے اثرات خوش کن ہوتے ہیں، خیر کے کاموں کی طرف رجحان بڑھتا ہے اور برائیوں سے فطری طور پر دل میں نفور پیدا ہو جاتا ہے ، مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں، تلاوت قرآن کریم کی آواز ہر گھر سے آنے لگتی ہے، خیرات و زکاة دینے والے ادارے تنظیمیں اور افراد کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے آگے آتے ہیں، انسان غریبوں، مسکینوں ہی کے لئے نہیں محلہ میں اہل ثروت روزہ داروں کے لیے بھی دستر خوان سجاتا ہے کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ افطار کا ثواب روزے کے ثواب کے برابر ہے ، دستر خوان پر جتنی چیزیں رمضان میں جمع ہو جاتی ہیں اس کا چوتھا حصہ بھی عام دنوں میں دستر خوان پر دیکھنے کو نہیں ملتا ، روزہ کو حدیث میں ڈھال کہا گیا ہے اور اس ڈھال کے ذریعہ ایمان والا خیر کو اپناتا اور شر کو چھوڑتا ہے ، دھوپ کی تمازت ، پیاس کی شدت اور غضب کی بھوک میں بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ عمل رضائے الہی کا سبب ہے اور جو ثواب ملے گا اس کا پیمانہ مقرر نہیں ہے، حدیث قدسی ہے ، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، عام طور سے نیک اعمال میں ثواب کا فارمولہ ایک پر دس کا ہے، قرآن کریم میں مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشَرُ أَمْثَالِهَا مذکور ہے یعنی ایک نیکی کیجئے دس پائیے ، لیکن روزہ ظاہر کے اعتبار سے ایک مخفی عبادت ہے، لیکن بندے کا روزہ کس پائے کا ہے، اللہ ہی جانتا ہے ، اس لئے روزہ کے اجر و ثواب کا فارمولہ الگ ذکر کیا گیا کہ وہ اللہ کے لئے ہے اور اللہ ہی اس کے روزے کے اعتبار سے بدلہ عطا فرمائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ میں ہی اس کا بدلہ ہوں، ظاہر ہے اللہ جس کو مل جائے اسے کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہے گی ، اس لیے ایمان والوں کو اس موسم بہار سے اس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے کہ دل کی دنیا بدل جائے اور زندگی اس راستے پر چل پڑے جو اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب ہے ، اس کے لئے روزہ کے ساتھ تراویح و تہجد اور تلاوت قرآن کا اہتمام بھی کرنا چاہیے اور خود کو منکرات سے بچانا بھی چاہیے، اس حد تک کہ کوئی جھگڑے پر اُتارو ہو تو آپ کہدیجئے ، میرا روزہ ہے، ایسا روزہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے، اور تقویٰ ہی رضائے الٰہی تک لے جانے والی شاہ راہ ہے۔
اس موقع سے یہ بتانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بہت سارے لوگ ٹی وی کے ان پروگراموں کو دیکھنے میں وقت برباد کرتے ہیں جو استقبال رمضان یا رمضان کے لیے خصوصی پروگرام کے حوالہ سے پیش کیے جاتے ہیں، ان پروگراموں کو دیکھنے میں وقت برباد کرنا کسی طور پر مناسب نہیں ہے، کیوں کہ ان پروگراموں میں بھی منکرات کی بھر مار ہوتی ہے ،لہو ولعب کے وہ مناظر ایڈورٹائز اور اشتہار کے طور پر دکھائے جاتے ہیں جو شرعی طور پر منکرات کے ذیل میں آتے ہیں، یقیناً قرآن کریم کی تلاوت ، نعت خوانی اور روزہ رمضان کی مناسبت سے ترغیبی گفتگو اچھی چیز ہے، لیکن اس اچھے کام کے ساتھ منکرات کی ایک لمبی فہرست اس میں ہوتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ٹی وی بند کر دیں اور سارا وقت تلاوت کلام پاک اور ذکر واذکار میں لگائیں یہ آپ کی اخروی زندگی کے لیے فائدہ مند اور رمضان المبارک کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
