اپریل 15, 2026
Delhi

آزمائش و سختی ہی مقدر ہے تو یہی سہی، پرظلم کی مدد ہر گز نہیں

قانون کے سہارے انصاف کی تلاش رہے گی۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ
حیدرآباد/نئی دہلی، (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) سپریم کورٹ کی حالیہ سماعت جس میں عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو ہفتہ بھر میں خودسپردگی کا حکم دیا گیا ہے، صحافی مطیع الرحمن عزیز نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے نہیں لگتا ہے کہ اس سختی کو عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ بروئے کار لائیں گی “ کیونکہ مختلف اوقات میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہا ہے کہ اگر قانون اور کورٹ کچہریوں کو سختی اور آزمائش ہی درکار ہے تو یہی سہی، مگر کسی غلط پر دستخط یا حمایت اُن کی جانب سے متوقع نہیں ہے، ایجنسیاں یا عدالت چاہتی ہیں کہ وہ اپنے اہل خاندان کی جائیدادوں کو ان کے جھولی میں ڈال دیں اور وہ من مانے طریقے سے اپنے منتخب شدہ لوگوں کو ہیرا گروپ کی مہنگی ترین جائیدادوں کو چند روپئے میں دے کر مالا مال کریں تو یہ ناجائز ہے، سرمایہ کاروں کو پیسے کی ادائیگی کا نشانہ رکھ کر سیکڑوں کروڑ روپئے کی جائیداد کو دس، پانچ کروڑ روپئے میں نیلام کر کے ہیرا گروپ کو بے وقعت کرنے کی کسی بھی سازش کو ڈاکٹر نوہیرا شیخ کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ برسوں پہلے اس بات کا اشارہ بتایا جا رہا تھا کہ جتنا بڑا شخصی رتبہ اور عہدہ اتنی بڑی ہیرا گروپ کی جائیداد پر قبضہ کیا جا رہا ہے، آج حالیہ دنوں میں اس بات کو صاف شفاف اندا ز میں دیکھا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ سامنے موجود ہیرا گروپ کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی مدد اور تعاون سے سرمایہ کاروں کے پیسوں کی ادائیگی کی جاتی، کیونکہ کمپنی نے ہمیشہ کہا ہے کہ بیشک کمپنی میں لوگوں کے پیسے انوسٹ ہیں، ہر بات کا ریکارڈ موجود ہے، کمپنی اس لائق ہے کہ وہ لوگوں کی امانتوں کو ادا کرے ، کیونکہ جائیدادوں کی شکل میں کمپنی نے تہہ بتہ پیسوں کی حفاظت رکھی ہے، لیکن ایجنسیوں نے من مانی طریقے سے پہلے کمپنی دفاتر پر تالے لگائے گئے اور اس کے ڈیٹا اور ڈیوائسز کاٹ اور نوچ کر لے گئے، یعنی کہ ہیرا گروپ کی تمام تجارتی ریکارڈ کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، دوسری جانب کمپنی کی قیمتی جائیدادوں کو اونے پونے داموں میں خرید وفروخت کرکے لاکھوں سرمایہ کاروں کی نظروں میں ہیرا گروپ اور اس کی سی ای او کو لاچارو بدنام کرنا چاہا، یہ سب غلط ، ناجائز اور غیر قانونی ہے، اور عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا مختلف مواقع پر کہنا ہے کہ وہ کسی بھی غلط اور غیر قانونی عمل میں ہرگز مدد نہیں کریں گی، اس کے بدلے قید کرنا ہے تو قید کرلیں اور اور سختی میں ڈال کر سزا دینا تو سزا دیں، مگر ناانصافی اور ظلم کی مدد ہر گز نہیں کی جائے گی۔
تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا نے ہیرا گروپ آف کمپنیز کی مینیجنگ ڈائریکٹر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو ایک ہفتے کے اندر خودسپردگی کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کے فوراً بعد عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے تعلق سے تبصرے منظر عام پر آنے لگے ہیں، جس میں مبصرین نے اپنے موقف کو انتہائی صاف، مدلل اور پختہ انداز میں پیش کیا ہے۔ عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اکثر وقت کہا کہ اگر قانون اور عدالت کو سختی اور آزمائش ہی درکار ہے تو وہ اسے قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ کسی بھی غلط، غیر قانونی یا ناانصافانہ عمل پر دستخط کرنے یا اس کی حمایت کرنے کی توقع ان کی جانب سے قطعی نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا: "اگر ایجنسیاں یا عدالت چاہتی ہیں کہ میں اپنے اہلِ خاندان کی جائیدادوں کو ان کے حوالے کر دوں تو پہلی بات یہ میرے اختیار سے باہر ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ سازش کار لوگ چاہتے ہیں کہ وہ قیمتی جائیدادوں کو اپنے منتخب کردہ لوگوں کو چند کروڑ روپے میں دے کر مالا مال کریں تو یہ بالکل ناجائز اور غیر قانونی مطالبہ ہے۔ ہیرا گروپ کی سیکڑوں کروڑ روپے کی مالیت والی مہنگی ترین جائیدادوں کو صرف دس یا پانچ کروڑ روپے میں نیلام کر کے گروپ کو بے وقعت کرنا اور سرمایہ کاروں کو پیسوں کی ادائیگی کا بہانہ بنا کر یہ سب کرنا ایک سوچی سمجھی سازش لگتی ہے۔
"عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے مزید کہا کہ برسوں سے انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ جتنا بڑا ذاتی رتبہ اور عہدہ ہو، اتنی ہی بڑی ہیڑا گروپ کی جائیداد پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب حالیہ دنوں میں یہ بات بالکل صاف اور شفاف انداز میں سامنے آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی لاکھوں سرمایہ کاروں کی ادائیگی کا معاملہ حل کرنا ہے تو سب سے مناسب اور شفاف راستہ یہ ہے کہ ہیرا گروپ کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی مدد اور تعاون سے یہ کام کیا جائے۔ کمپنی نے بار بار واضح کیا ہے کہ سرمایہ کاروں کے پیسے کمپنی میں انویسٹ ہیں، ہر لین دین کا مکمل ریکارڈ موجود ہے اور کمپنی اس بات کی پوری صلاحیت رکھتی ہے کہ لوگوں کی امانتوں کو واپس ادا کر سکے۔ کیونکہ کمپنی نے جائیدادوں کی شکل میں تہہ بتہ پیسوں کی حفاظت کی ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایجنسیوں نے من مانی اور غیر شفاف طریقے سے پہلے کمپنی کے دفاتر پر تالے لگا دیے، تمام ڈیٹا، ڈیوائسز اور تجارتی ریکارڈز کو کاٹ نوچ کر لے گیا جس سے ریکارڈز کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب قیمتی جائیدادوں کو اونے پونے داموں میں نیلام یا خرید و فروخت کر کے لاکھوں سرمایہ کاروں کی نظروں میں ہیرا گروپ اور اس کی سی ای او کو لاچار اور بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اس پورے عمل کو غلط، ناجائز اور غیر قانونی قرار دیا اور کہا:”میں کسی بھی غلط اور غیر قانونی عمل میں ہرگز مدد یا تعاون نہیں کروں گی۔ اگر قید کرنا ہے تو قید کر لیں، اگر سختی میں ڈال کر سزا دینا ہے تو سزا دے دیں، مگر ناانصافی اور ظلم کی مدد ہرگز نہیں کی جائے گی۔”یہ بیان ہیرا گروپ کے ہزاروں متاثرہ سرمایہ کاروں (خاص طور پر خواتین اور مسلم کمیونٹی کے لوگوں) میں ایک نئی امید اور حوصلہ پیدا کر رہا ہے۔ قانونی ماہرین اسے سپریم کورٹ اور ایجنسیوں کے لیے ایک واضح چیلنج بھی قرار دے رہے ہیں۔

Related posts

کسی بھی زبان کو کسی مذہب یا فرقہ سے جوڑنا قطعی غلط

www.journeynews.in

اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن دہلی اسٹیٹ کی میٹنگ منعقد

www.journeynews.in

تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم چار روزہ ہندوستان کا دورہ پر

www.journeynews.in