30.1 C
Delhi
جون 1, 2026
مضامین

ہر سال کی طرح امسال بھی ہوئی قربانی!!

( قربانی اور رب کی مہربانی)

تحریر : جاوید بھارتی
یوں تو عید الاضحٰی سے قبل قربانی سے متعلق بے شمار مضامین نظر سے گزرے کسی نے سرخی لگائی کہ فلسفہ قربانی ، قربانی کی اہمیت ، قربانی سنت ابراہیمی کی یادگار ، قربانی خلوص اور محبت ، قربانی ضروری ہے ریاکاری نہیں ، ہماری قربانیاں روحانیت سے خالی کیوں۔ قربانی جذبہ ایثار و محبت کا نام ہے وغیرہ وغیرہ –
یقیناً قربانی ایک ایسا فلسفہ ہے جس سے ایمان میں تازگی آتی ہے ، اللہ کی ذات پر بھروسہ مضبوط ہوتاہے اور اللہ و بندے کے درمیان رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے ،، قربانی کرنے والے ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ قربانی کرنے سے پہلے حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام  کی قربانی کو یاد کرے ایک باپ اپنے بیٹے کو راہ خدا میں ذبح کررہا ہے وہ بھی اس بیٹے کو جو 80 سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا،، ذرا آج کے ماحول پر نظر ڈالیں شادی ہونے کے پانچ سال بعد تک اولاد نہیں ہوتی ہے تو رشتہ دار، دوست و احباب ، اعزہ و اقارب طعنہ مارنا شروع کردیتے ہیں ، ایک عورت کو سسرال میں گری نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے ،، بالآخر وہ آدمی اولاد کے لئے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ، حکیم کے پاس جاتا ہے ، مساجد میں دعا کراتا ہے ، اولیاء کرام کے آستانوں پر جاتا ہے۔ جھاڑ و پھونک کراتا ہے ، اصلی و نقلی پیروں اور عاملوں و روٹی توڑ فقیروں کی چوکھٹ پر جاتا ہے یعنی کہ مختلف مراحل سے گزرتا ہے –
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ  دعا کرتے رہے رب ھبلی من الصالحین کی صدا لگاتے رہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 80 سال ہوئی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواہش پوری کی یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت ہوئی اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کتنی محبت رہی ہوگی پھر بھی اللہ تعالیٰ نے خواب دکھایا کہ ائے ابراہیم اپنی سب سے محبوب چیز کو میری راہ میں قربان کرو تو ابراہیم علیہ السلام نے سو اونٹ راہ خدا میں قربان کیا پھر خواب دیکھا پھر قربان کیا ، پھر خواب دیکھا پھر قربان کیا ،، بار بار اونٹوں کی قربانی کے باوجود بھی خواب دیکھتے رہے تو غور کیا کہ اللہ یہ کہہ رہا ہے کہ اپنی سب سے محبوب چیز کو قربان کرو اس کا مطلب کہ اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کی قربانی مانگ رہا ہے اس لئے کہ میری سب سے محبوب چیز میرا بیٹا ہی تو ہے-
اب ایک باپ اپنے بیٹے سے خواب کا ذکر کرہا ہے یعنی ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے خواب کا ذکر کرتے ہیں تو اسماعیل علیہ السلام نے کہا کہ ابو جان آپ اپنا خواب پورا کرگزرئیے آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ،، باپ اور بیٹے دونوں اللہ کے نبی ہیں اور باپ بیٹے کی گفتگو اور کارنامے کو قرآن نے ریکارڈ کرلیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے قربانی کو حج کے ارکان میں شامل کردیا یہ فلسفہ اور مقام ہے قربانی کا –
ذی الحجہ کا مہینہ قربانی کا مہینہ ہے قربانی ہر صاحب نصاب پر واجب ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مالک نصاب ہوتے ہوئے بھی قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ سے دور رہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ یہ قربانی کیا ہے تو نبی پاک ارشاد فرمایا کہ قربانی تمہارے  باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے قران میں بھی یہ ایت موجود ہے فصل لربک ونحر یعنی نماز پڑھو اور اپنے رب کے لیے قربانی  کرو اب اس سے قربانی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے بعد میں لوگ تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ تو سنت ابراہیمی ہے تو امت محمدیہ کے لیے کیوں ضروری ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر اتنا کہا ہوتا کہ قربانی ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور اگے کچھ نہ فرمایا ہوتا تو کسی قدر ایسے سوالات کی گنجائش ہوتی لیکن سید عرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں ایک طرف قربانی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت بتایا تو وہیں سنت پر عمل کرنے کا حکم بھی دیا اور خود نبی پاک نے قربانی کی تو یاد رکھیں یہ قربانی کا عمل ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے ساتھ ساتھ ہمارے اقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی سنت ہو گئی اور ہر وہ مسلمان جو مالک نصاب ہے تو اس کے لیے قربانی کرنا ضروری ہے-
یاد رکھنا چاہیے کہ قربانی میں ریاکاری کی گنجائش نہیں ہے عبادت کے معاملے میں تو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا خوش بختی کی بات ہے لیکن قربانی کے جانوروں کی خریداری پر سبقت کا معیار تفاخر ہے اور ایک دوسرے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے اور مقصد یہ ہے کہ میرا قربانی کا جانور تم سے زبردست ہے تم میرا مقابلہ کرہی نہیں سکتے دیکھو پورا علاقہ میری تعریف کر رہا ہے اور میرے جانور کی تعریف کررہا ہے تمہارے جانور کی تو بات ہی کوئی نہیں کرتا ہے ہر طرف میرا ہی تبصرہ ہے تو یاد رکھیں مہنگے سے مہنگا جانور خریدنے کے بعد بھی یہ تمہاری بدبختی ہے بس جانور خریدنا۔ کاٹنا اور کھانا ،، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے-
ائمہ مساجد نے جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپ قربانی کریں لیکن تفاخر سے اور دکھاوے سے پوری طرح پرہیز کریں قربانی کا جانور اچھا سے اچھا اپنی استطاعت کے مطابق ضرور خریدیں لیکن کسی کو نیچا دکھانے کے لیے اور اپنے نام و نمود کے لیے اپنی تعریف اور تبصرے کے لیے ہرگز نہ خریدیں ورنہ اپ کی قربانی اپ کے منہ پہ مار دی جائے گی بار بار یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں ہڈیاں بوٹیاں اور جانور کا گوشت نہیں پہنچتا ہے بلکہ اپ کی نیت اپ کا اخلاص اپ کا تقوی اپ کا ارادہ یہی اللہ کی بارگاہ میں پہنچتا ہے تو ضروری ہے کہ اپ کا ارادہ پاک ہو اپ کی نیت درست ہو اور اپ کا تقوی اللہ کے لیے ہو نہ کہ دنیا میں شہرت حاصل کرنے کے لیے-
عید الاضحی کا چاند نظر ایا اور ابھی بھی عید الاضحی کا ہی مہینہ چل رہا ہے لیکن اب قربانی کا وقت ختم ہو گیا ہم نے قربانیاں کیں اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوئی یا نہیں یہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن بظاہر قبولیت کی کوئی علامت نظر نہیں اتی ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کے جانور خریدے گئے پر چاروں پرسار میں کوئی کمی نہیں کی گئی اج جو ہمارا طرز عمل ہے اس سے تو یہ نہیں لگتا کہ یہ قربانی ہم اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے کر رہے ہیں قربانی کے گوشت کو یقینا قربانی کرنے والا کھا سکتا ہے لیکن وقت کا تقاضا اور مناسب تو یہی ہے قربانی کے گوشت کو پڑوسیوں میں رشتہ داروں میں دوست احباب میں ضرور تقسیم کیا جائے لیکن افسوس کی بات یہ ہے اور تلخ بھی ہے کہ دن بدن قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنے کے معاملے میں مسلمان بہت پیچھے ہوتا جا رہا ہے بلکہ فریجر خرید کر قربانی کے گوشت کو ذخیرہ اندوزی کرنے میں سبقت لیتا جا رہا ہے اور اپنے تعلقات کے لوگوں سے پوچھتا ہے کیا تمہارے پاس قربانی تھی کہ نہیں یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تمہیں خود قربانی کا گوشت تقسیم نہیں کرنا ہے تو پھر کسی سے قربانی سے متعلق پوچھنے کا تمہیں کہاں سے حق حاصل ہے سچائی تو یہی ہے کہ جب تم قربانی کے گوشت کو اپنے رشتہ داروں دوست احباب عزیز و اقارب میں تقسیم نہیں کر سکتے تو تمہیں ان سے قربانی سے متعلق پوچھنا بھی نہیں چاہیے کہ ان کے پاس قربانی کے لیے جانور خریدا گیا تھا یا نہیں-
یہ بھی سچائی ہے کہ اج کے اس دور میں ہمیں اپنے من مطابق اور اپنے مفاد کے مطابق روایات چاہیے اور واقعات چاہیے روایات میں یہ تو مل گیا کہ قربانی کے گوشت کو اپ پوری سال کھا سکتے ہیں تو اس پر عمل درامد شروع ہو گیا لیکن جس کا یہ فرمان ہے اسی نے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ تمہارا پڑوسی بھوکا سو جائے اور تم پیٹ بھر کر شکم سیر ہو کر سو جاؤ تو تم مومن نہیں، یہ ہمیں معلوم ہے کہ دعوت کھانا سنت ہے پر یہ نہیں معلوم کہ کسی کےو ہاں دعوت کھانے جاؤ تو اپنے گھر سے خود پہلے تھوڑا بہت کھا کر جاؤ تاکہ جس کے دروازے پر دعوت کھانے جا رہے ہو تو تمہاری ادھی روٹی کم کھانے کی وجہ سے اس کی عزت بچ جاتی ہے تو یہ تمہارے لیے بڑی ہی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور تمہارے اس طریقے سے اللہ اور رسول راضی بھی ہوں گے، مہمان جس گھر میں اتے ہیں تو اس گھر میں اللہ کی برکت نازل ہوتی ہے یہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جب تم کسی کے وہاں مہمان بن کر جاؤ تو خالی ہاتھ ہرگز نہ جایا کرو ،،اس بات پر بھی تو عمل ہونا چاہیے، بہرحال ہر سال کی طرح ا مسال بھی قربانی ہوئی لیکن اس قربانی کے تناظر میں بھی دیکھا جائے تو بڑی تیزی کے ساتھ مسلمانوں کے اندر خود غرضی داخل ہوتی جا رہی ہے اخوت وہ بھائی چارگی ختم ہوتی جا رہی ہے مروت اور محبت میں کمی اتی جا رہی ہے قربانی کے ایام میں بھی لوگ گوشت کھانے سے ترس جائیں جس قوم کے اندر قربانی رائج ہو اسی قوم کے لوگ قربانی کے ایام میں بھی گوشت کھانے سے محروم رہ جائیں تو یہ پوری قوم کے لیے بد نصیبی کی بات ہے –
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ان کی یادگار ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ابراہیم علیہ السلام کے واقعات کو پڑھیں سنیں اور اس پر عمل کریں تو معلوم ہوگا کہ ابراہیم علیہ السلام دسترخوان پر کبھی بھی تنہا بیٹھ کر کھانا نہیں کھایا کرتے تھے جب بھی وہ دسترخوان پر بیٹھتے تو ساتھ میں کوئی اور ضرور ہوتا ایک دن ایسا بھی موقع ایا کہ اپ دسترخوان پر بیٹھے تو ساتھ میں ایک ایسا شخص بیٹھا جو اللہ کے نام سے کھانا نہیں کھاتا تھا بلکہ وہ جب بھی کھانا کھاتا تو اگ کا نام لے کر کھانا کھاتا تھا ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ بسم اللہ کہہ کر کھانا شروع کرو تو اس نے بسم النار کہہ کر کھانا شروع کیا تو ابراہیم علیہ السلام کو غصہ اگیا اور اسے دسترخوان سے اٹھا دیا تو اللہ کی طرف سے یہ حکم ایا کہ اے ابراہیم وہ 70 سال سے میرا نام نہ لے کر بلکہ اگ کا نام لے کر کھانا کھا رہا ہے لیکن پھر بھی اس کو میں کھلا رہا ہوں اور تم ایک دن ایک وقت بھی برداشت نہیں کر سکے جاؤ اسے لوا کر اؤ اور اپنے دسترخوان پر بیٹھا کر اسے کھانا کھلاؤ ابراہیم علیہ السلام گئے اور اسے تلاش کیا پھر لے کر ائے اور دسترخوان پر بیٹھایا تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر نہیں بلکہ میں اگ کا نام لے کر ہی کھانا کھاؤں گا کیونکہ میں اگ کی پوجا کرتا ہوں تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرے پروردگار کا حکم ہے کہ تم اسے یعنی تمہیں دسترخوان پر بیٹھا کر کھانا کھلاؤں اور میرے رب نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ میں اسے 70 سال سے کھلا رہا ہوں جب کہ ان 70 سال میں اس نے کبھی بھی میرا نام لے کر کھانا نہیں کھایا ہے اتنا سننا تھا کہ اس کے دل کی دنیا بدلنے لگی اور وہ غور و فکر میں ڈوب گیا اس کے بعد کہتا ہے کہ اے ابراہیم اب تو میں اس وقت کھانا کھاؤں گا جب اپ مجھے کلمہ پڑھا کر اپنے دین میں داخل کر لیں گے تو ابراہیم علیہ السلام نے اسے کلمہ پڑھایا اور وہ دین میں داخل ہو گیا پھر بسم اللہ کہہ کر کھانا کھایا اب اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے –
     ++++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

Related posts

حضرت امام ربانی مجددالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ شریعت وتصوف کاآفتاب درخشاں! نقطئہ نظر۔۔۔محمد محفوظ قادری

www.journeynews.in

انڈیا اتحاد اور مسلم نمائندگی !جاوید اختر بھارتی

www.journeynews.in

اخلاق اور انسانیت،، سلوک و حسن سلوک !! تحریر: جاوید بھارتی

www.journeynews.in