علی گڑھ (محمد اظہر نور اعظمی):مسجد پنجتن کے کامیاب ترین ۵ سال مکمل ہونے اور سجادہ خانقاہ عالیہ برکاتیہ نوریہ مارہرہ مقدسہ، حضور سید نجیب حیدر میاں نوری صاحب قبلہ کے ۵۰ سالہ زریں دورِ خطابت کے اختتام پر علی گڑھ میں ایک عظیم الشان، تاریخ ساز اور پروقار تہنیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔محفل کا باقاعدہ آغاز بعد نمازِ عشاء تلاوتِ قرآنِ پاک اور حمدِ باری تعالیٰ سے ہوا، جس کی سعادت ممبئی سے تشریف لائے حافظ و قاری محمد عنبر قادری نے حاصل کی۔
جلسے کی سرپرستی کے فرائض سربراہِ اہل سنت، حضرت علامہ مولانا الشاہ پروفیسر سید محمد امین میاں قادری برکاتی صاحب قبلہ (سجادہ نشین خانقاہ عالیہ برکاتیہ مارہرہ مقدسہ) نے انجام دیے۔ صدارت کے منصب پر حضور شرفِ ملت حضرت سید محمد اشرف قادری صاحب قبلہ رونق افروز رہے، جبکہ نبیرۂ حضور سید العلماء ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی صاحب نے محفل کو اپنی پرخلوص حمایت اور تائید سے نوازا۔ اس موقع پر مسجد پنجتن اور کو ہند انجمن اصلاح معاشرہ کی جانب سے حضور نجیب ملت کو سپاس نامہ مع جبہ و روایتی ٹوپی اور عصا پیش کیا گیا۔
کانپور سے تشریف لائے مقررِ خصوصی حضرت مولانا مفتی حنیف قادری برکاتی نے اپنے پرمغز اور بصیرت افروز خطاب میں خانقاہِ برکاتیہ کے مختلف روشن گوشوں، بالخصوص خانقاہ کی غرباء پروری، ساداتِ مارہرہ کی سادگی اور علم پسند رَوِش پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے حضور احسن العلماء کے دور کا ایک تاریخی واقعہ نقل کرتے ہوئے بتایا کہ ایک جلسے میں سرکار رفیقِ ملت کی موجودگی میں حضور احسن العلماء نے فرمایا تھا: ”یہ میرا بیٹا ہے، مجھ سے چھوٹا ہے مگر مرتبہ میں میرے برابر ہے“۔
مفتی صاحب نے حضور نجیبِ ملت کی فصاحت و بلاغت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت کا خطاب دنیا بھر میں لاکھوں کے مجمع کو مسحور اور دم بخود کر دیتا تھا، ایسا پرسکون ماحول ہوتا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حضور نجیبِ ملت نے ہمیشہ حق گوئی، نپی تلی گفتگو، اور ملت کی مخلصانہ رہنمائی فرمائی۔ حضرت نے ہمیشہ میراث میں بہن بیٹیوں کے حقوق کی ادائیگی، مدارس سے وابستگی، والدین کی خدمت و دعائیں لینے، نماز کی پابندی، سچائی اور مصلحت پسندی سے بچنے کی عملی تعلیم دی۔
حضور نجیب حیدر نوری صاحب قبلہ نے اپنے خطاب میں میزبانِ محفل جناب اکبر قادری برکاتی صاحب اور ان کے اہل خانہ سے اپنے دیرینہ و گہرے تعلقات کا ذکر نہایت محبت اور والہانہ انداز میں کیا، جس سے یادوں کا ایک دلکش سماں بندھ گیا۔
حضور شرفِ ملت نے اپنے صدارتی کلمات میں مسجد پنجتن اور مدرسہ کے بانی اکبر قادری برکاتی کی دینی کاوشوں اور ایثار کو خوب سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔حضور امانِ اہلِ سنت محبوب العلماء حضرت علامہ سید محمد امان میاں قادری برکاتی نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ انہوں نے اکبر قادری صاحب کے ساتھ خاندانِ برکات کے گہرے رشتے اور مارہرہ شریف میں واقع جامعہ احسن البرکات کی دینی و تعلیمی خدمات کو اجاگر کیا۔حضور امینِ ملت نے اپنے خطبۂ سرپرستی میں روایتی اور دلنشین انداز میں حاضرین سے خطاب فرمایا اور تمام حاضرین، منتظمین اور ملتِ اسلامیہ کے حق میں خیر، فلاح اور برکت کی خصوصی دعائیں فرمائیں۔
بارگاہِ رسالت مآب ﷺ اور ائمہ و اولیاء کی شان میں جناب کلیم دانش کانپوری اور سید فرقان علی قادری (علی گڑھ) نے نعت و منقبت کے خوبصورت گلدستے پیش کیے۔ تقریب کی کامیاب نظامت کے فرائض ڈاکٹر سلمان اور ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے مشترکہ طور پر حسن و خوبی سے انجام دیے۔جلسے کا اختتام بارگاہِ رسالت میں درود و سلام کے نذرانے اور امتِ مسلمہ کی سربلندی و بقا کی دعاؤں پر ہوا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں علمائے کرام، ائمہ مساجد، معززینِ شہر اور عقیدت مند موجود رہے۔
