28.1 C
Delhi
مئی 13, 2026
Uncategorized

چینی اور فرانسیسی صدور کی شہر چھنگ دو میں دوستانہ گفتگو

و چینی صدر شی جن پھنگ نے چین کے صوبہ  سی چھوان  کے شہر چھنگ دو میں ڈو جیانگ یان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ دوستانہ گفتگو کی۔

چینی صدرشی جن پھنگ نے ڈو جیانگ یان کی تاریخ اور اہمیت کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ڈو جیانگ یان کا آبی نظام دنیا میں واحد قدیم آبی نظام ہے جو آج بھی استعمال میں ہے، اور یہ انسان اور فطرت کی باہمی بقاء کے ابتدائی کامیاب تجربات میں سے ایک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر مرتبہ ڈو جیانگ یان آنے پر حکمرانی کی حکمت عملی کے گہرے پہلو سامنے آتے ہیں جن سے کافی سیکھنے کو ملتا ہے۔

فرانس کے صدر میکرون نے کہا کہ دو ہزار سال قبل بنایا گیا یہ آبی نظام آج بھی کام کر رہا ہے، اور چینی عوام کی محنت اور سوچ قابل تعریف ہے۔ فرانس اور چین دونوں قدیم تاریخی ثقافتیں ہیں، اور دونوں ممالک کے عوام اچھی زندگی کے حصول کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ فرانس اور چین کے درمیان تعاون دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی لائے گا جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

دونوں  سربراہان  نے ڈو جیانگ یان میں گھومتے ہوئے دوستانہ انداز میں گفتگو کی۔

 صدر شی نے زور دیا کہ فرانس اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنا نہ صرف دو خودمختار ریاستوں کا "ہاتھ ملانا” ہے بلکہ دو شاندار تہذیبوں کے ملاپ کا بھی باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ عالمی منظرنامے کے  پیچیدہ حالات کے سامنے   دونوں ممالک بات چیت اور تعاون کے ذریعے عالمی امن و استحکام اور انسانی ترقی میں زیادہ  بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صدر میکرون نے کہا کہ فرانس عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے چین کے ساتھ تعاون کرنے کا خواہاں ہے۔

ایمانوئل میکرون کے دورہ چین کے دوران، چین اور فرانس نے عالمی حکمرانی کو مضبوط بنانے، عالمی ماحولیاتی اور آب و ہوا کے چیلنجز سے نمٹنے ، پرامن ایٹمی توانائی کے استعمال ، زراعت اور خوراک سمیت دیگر پہلوؤں پر تعاون، یوکرین اور فلسطین کی صورتحال پر مشترکہ بیانات جاری کیے۔

Related posts

بائیڈن G20 سربراہی اجلاس میں آب و ہوا پر پیش رفت پر توجہ مرکوز کریں گے۔وہائٹ ہاؤس

www.journeynews.in

ہیرا گروپ کیلئے سپریم کورٹ کا موجودہ حکم اور اس کی حقیقت ڈاکٹر نوہیرا شیخ حق پر ہیں اور ہمیشہ عدالتوں کے حکم کی تعمیل کی ہے

www.journeynews.in

مسقط۔18؍ دسمبر۔ ایم این این۔وزیر اعظم نے آج مسقط میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ حاضرین میں مختلف بھارتی اسکولوں کے 700 سے زائد طلبہ شامل تھے۔ اس سال عمان میں بھارتی اسکولوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنی قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب میں بھارت میں موجود خاندانوں اور دوستوں کی جانب سے برادری کو پیغامات اور مبارکباد دیں۔ انہوں نے برادری کے شاندار اور گرمجوش استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عمان میں آباد مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں سے مل کر خوش ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ تنوع بھارتی ثقافت کی بنیاد ہے،ایسا قدر جو انہیں کسی بھی معاشرے میں شامل ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔بھارتی برادری کی عمان میں اعتماد اور مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگی اور تعاون بھارتی تارکین وطن کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، مانڈوی سے مسقط تک، اور آج یہ تعلقات تارکین وطن کی محنت اور ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جانیے کوئز میں بڑی تعداد میں حصہ لینے والی برادری کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علم بھارت-عمان تعلقات کا مرکز رہا ہے اور برادری کو ملک میں بھارتی اسکولوں کے 50 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے برادری کی فلاح و بہبود کے لیےعزت مآب سلطان حیثم بن طارق آل سعید کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم نے بھارت کی اصلاحاتی نمو اور ترقی، اس کی رفتار اور تبدیلی کے پیمانے، اور معیشت کی قوت پر بات کی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد نمو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ 11 سال میں حکومت کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، مینوفیکچرنگ، صحت کی سہولیات، گرین گروتھ، اور خواتین کی بااختیاری کے شعبوں میں ملک میں تبدیلیاں آئی ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت 21ویں صدی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس میں عالمی سطح کا اختراع، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوپی آئی، جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بنتا ہے، فخر اور کامیابی کا سبب ہے۔انہوں نے بھارت کی خلائی شعبے میں حالیہ شاندار کامیابیوں، چاند پر لینڈنگ سے لے کر منصوبہ بند گگن یان انسانی خلائی مشن تک روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبہ بھارت اور عمان کے تعاون کا ایک اہم حصہ ہے اور طلبہ کو اسرو کے یوویکا پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی، جو نوجوانوں کے لیےمختص ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت صرف ایک بازار نہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے،چاہے وہ اشیاء اور خدمات ہوں یا ڈیجیٹل حل۔وزیر اعظم نے تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں بھی اور جب بھی ہمارے لوگ مدد کے محتاج ہوں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔عمان شراکت داری مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی( میں تعاون، ڈیجیٹل لرننگ، انوویشن پارٹنرشپ، اور کاروباری تبادلے شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، گہرائی سے سیکھیں، اور جرات مندانہ اختراعات کریں تاکہ وہ انسانیت کی بھلائی میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

www.journeynews.in