28.1 C
Delhi
مارچ 30, 2026
Uncategorized

جو ملک اپنی وراثت کی قدر نہیں کرتا وہ اپنا مستقبل بھی کھو دیتا ہے۔ پی ایم مودی

سابر متی( گجرات)۔ 12؍مارچ ۔ ایم این این۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج سابرمتی آشرم کا دورہ کیا اور کوچراب آشرم کا افتتاح کیا اور گاندھی آشرم میموریل کے ماسٹر پلان کا آغاز کیا۔ وزیر اعظم نے مہاتما گاندھی کے مجسمہ پر پھول چڑھائے اور ہردے کنج کا دورہ کیا۔ انہوں نے نمائش کا  گھوم پھیر کر معائنہ کیا اور ایک  پودا بھی لگایا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سابرمتی آشرم ہمیشہ سے بے مثال توانائی کا ایک متحرک مرکز رہا ہے اور ہم باپو کی تحریک کو اپنے اندر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ‘‘سابرمتی آشرم نے باپو کی راست گوئی اور عدم تشدد، راشٹر سیوا اور خدا کی خدمت کو محروموں کی خدمت میں دیکھنے کی اقدار کو زندہ رکھا ہے۔’’ وزیر اعظم نے کوچراب آشرم میں گاندھی جی کے اس  وقت کا ذکر کیا جہاں گاندھی جی سابرمتی منتقل ہونے سے پہلے ٹھہرے تھے۔ از سر نو تعمیر  کردہ  کوچراب آشرم کو آج قوم کے نام وقف کیا گیا۔ وزیر اعظم نے مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا اور آج کے اہم اور متاثر کن منصوبوں کے لیے شہریوں کو مبارکباد دی۔آج کی 12 مارچ کی تاریخ کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے  جب محترم باپو نے ڈانڈی مارچ کا آغاز کیا اور ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی تاریخ کو سنہری حروف میں لکھا، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تاریخی دن آزاد ہندوستان میں ایک نئے دور کے آغاز کا گواہ ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قوم نے 12 مارچ کو ہی سابرمتی آشرم سے آزادی کا امرت مہوتسو شروع کیا، پی ایم مودی نے کہا کہ اس تقریب نے وطن  کی قربانیوں کی یاد گار منانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا، ‘‘امرت مہوتسو نے ہندوستان کے لئے امرت کال میں داخل ہونے کا ایک گیٹ وے بنایا’’، یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ اس نے شہریوں کے درمیان اتحاد کا ماحول پیدا کیا جیسا کہ ہندوستان کی آزادی کے دوران دیکھا گیا تھا، انہوں نے مہاتما گاندھی کے نظریات اور عقائد کے اثرات اور امرت مہوتسو کے دائرہ کار پر روشنی ڈالی۔ پی ایم مودی نے کہا ‘‘آزادی کا امرت کال پروگرام کے دوران 3 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے پنچ پران کا حلف اٹھایا’’، ۔ انہوں نے 2 لاکھ سے زیادہ امرت واٹیکاؤں کی ترقی کے بارے میں بھی بتایا جہاں 2 کروڑ سے زیادہ پودے لگائے گئے، پانی کے تحفظ کے لیے 70،000 سے زیادہ امرت سروور بنانے، ہر گھر ترنگا مہم جو کہ قومی عقیدت کا اظہار بن گئی، اور میری ماٹی میرا  دیش  مہم کے بارے میں بھی بتایا، جہاں شہریوں نے آزادی پسندوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعظم نے امرت کال کے دوران سابرمتی آشرم کو وکست بھارت کے عزائم کی یاترا بنانے کے دوران 2 لاکھ سے زیادہ پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے کا بھی ذکر کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ جو قوم اپنے ورثے کو محفوظ نہیں رکھ پاتی وہ اپنا مستقبل بھی کھو دیتی ہے۔ باپو کا سابرمتی آشرم صرف ملک کی نہیں بلکہ انسانیت کی میراث ہے۔ اس انمول ورثے کی طویل نظر اندازی کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے آشرم کا رقبہ 120 ایکڑ سے گھٹ کر 5 ایکڑ ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ 63 عمارتوں میں سے صرف 36 عمارتیں رہ گئی ہیں جن میں سے صرف 3 عمارتیں زائرین کے لیے کھلی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام 140 کروڑ ہندوستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آشرم کو آزادی کی جدوجہد میں اس کی اہمیت کے پیش نظر محفوظ رکھیں۔وزیر اعظم نے آشرم کی 55 ایکڑ اراضی واپس حاصل کرنے میں آشرم کے باشندوں کے تعاون کا اعتراف کیا۔ انہوں نے آشرم کی تمام عمارتوں کو ان کی اصل شکل میں محفوظ رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔وزیر اعظم نے اس طرح کی یادگاروں کی طویل نظر اندازی کے لیے قوت ارادی کی کمی، نوآبادیاتی ذہنیت اور خوشامد پسندی  کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کاشی وشوناتھ دھام کی مثال دی جہاں لوگوں نے تعاون کیا اور عقیدت مندوں کے لیے سہولیات پیدا کرنے کے منصوبے کے لیے 12 ایکڑ زمین مخصوص کی گئی  جس کے نتیجے میں کاشی وشوناتھ دھام کی دوبارہ تعمیر کے بعد 12 کروڑ یاتریوں کی آمد ہوئی۔ اسی طرح ایودھیا میں شری رام جنم بھومی کی توسیع کے لیے 200 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی۔ وہاں بھی صرف پچھلے 50 دنوں میں 1 کروڑ سے زیادہ عقیدت مند درشن کے لیے گئے ہیں۔پی ایم مودی نے کہا کہ گجرات نے پوری قوم کو وراثت کے تحفظ کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے سردار پٹیل کی قیادت میں سومناتھ کی بحالی کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ کی مثالوں میں احمد آباد شہر کو عالمی ثقافتی ورثے کے شہر کے طور پر  مانا جانا  شامل ہے۔چمپانیر اور دھولاویرا، لوتھل، گرنار، پاوا گڑھ، موڈھیرا اور امباجی  بھی  اسی تحفظ کی دیگر مثالیں ہیں۔ہندوستان کی جدوجہد آزادی سے متعلق ورثے کی بحالی کے لیے ترقیاتی مہم کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کرتویہ پتھ کی شکل میں راج پتھ کی دوبارہ ترقی اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مجسمے کے قیام، انڈمان اور نکوبار جزائر پر آزادی سے متعلق مقامات کی ترقی ‘پنچ تیرتھ’ کی شکل میں بی آر امبیڈکر سے متعلق مقامات کی ترقی، ایکتا نگر میں اسٹیچو آف یونٹی کی نقاب کشائی اور ڈانڈی کی تبدیلی کا ذکر کیا۔  پی ایم مودی نے زور دے کر کہا کہ سابرمتی آشرم کی بحالی اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

Related posts

سنچری بنانے کے بعد کے ایل راہل نے کہا- عمل ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے

www.journeynews.in

شکرانے کا دن سنت راجندر سنگھ جی مہاراج

www.journeynews.in

مسقط۔18؍ دسمبر۔ ایم این این۔وزیر اعظم نے آج مسقط میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ حاضرین میں مختلف بھارتی اسکولوں کے 700 سے زائد طلبہ شامل تھے۔ اس سال عمان میں بھارتی اسکولوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنی قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب میں بھارت میں موجود خاندانوں اور دوستوں کی جانب سے برادری کو پیغامات اور مبارکباد دیں۔ انہوں نے برادری کے شاندار اور گرمجوش استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عمان میں آباد مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں سے مل کر خوش ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ تنوع بھارتی ثقافت کی بنیاد ہے،ایسا قدر جو انہیں کسی بھی معاشرے میں شامل ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔بھارتی برادری کی عمان میں اعتماد اور مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگی اور تعاون بھارتی تارکین وطن کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، مانڈوی سے مسقط تک، اور آج یہ تعلقات تارکین وطن کی محنت اور ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جانیے کوئز میں بڑی تعداد میں حصہ لینے والی برادری کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علم بھارت-عمان تعلقات کا مرکز رہا ہے اور برادری کو ملک میں بھارتی اسکولوں کے 50 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے برادری کی فلاح و بہبود کے لیےعزت مآب سلطان حیثم بن طارق آل سعید کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم نے بھارت کی اصلاحاتی نمو اور ترقی، اس کی رفتار اور تبدیلی کے پیمانے، اور معیشت کی قوت پر بات کی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد نمو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ 11 سال میں حکومت کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، مینوفیکچرنگ، صحت کی سہولیات، گرین گروتھ، اور خواتین کی بااختیاری کے شعبوں میں ملک میں تبدیلیاں آئی ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت 21ویں صدی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس میں عالمی سطح کا اختراع، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوپی آئی، جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بنتا ہے، فخر اور کامیابی کا سبب ہے۔انہوں نے بھارت کی خلائی شعبے میں حالیہ شاندار کامیابیوں، چاند پر لینڈنگ سے لے کر منصوبہ بند گگن یان انسانی خلائی مشن تک روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبہ بھارت اور عمان کے تعاون کا ایک اہم حصہ ہے اور طلبہ کو اسرو کے یوویکا پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی، جو نوجوانوں کے لیےمختص ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت صرف ایک بازار نہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے،چاہے وہ اشیاء اور خدمات ہوں یا ڈیجیٹل حل۔وزیر اعظم نے تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں بھی اور جب بھی ہمارے لوگ مدد کے محتاج ہوں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔عمان شراکت داری مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی( میں تعاون، ڈیجیٹل لرننگ، انوویشن پارٹنرشپ، اور کاروباری تبادلے شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، گہرائی سے سیکھیں، اور جرات مندانہ اختراعات کریں تاکہ وہ انسانیت کی بھلائی میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

www.journeynews.in