جنوری 14, 2026
Uncategorized

ظلم ونا انصافی کے خلاف جدو جہد انبیاء کی سنت اور مظلوم کی حمایت ہر مسلمان کا اخلاقی فریضہ

جامع مسجد ہرنتھ اور مسجد یوسف علی بھٹہ،اسلام نگر،برہ پورہ میں ممتاز عالم دین مولانا سرفراز احمد قاسمی کا خطاب
بھاگلپور(پریس نوٹ)”انسانی سماج کو ہمیشہ زندہ قوموں اور حوصلہ مند افراد کی ضرورت رہی ہے، زندہ قومیں اپنی قربانیوں اور جدوجہد کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتی ہے،وہ اپنی تاریخ خود لکھتی ہے اور اپنا راستہ خود بناتی ہے،وہ کسی بیساکھی کے ذریعے زندگی نہیں گذارتی،انکے پاس ایک مکمل لائحہ عمل ہوتاہے جسکی روشنی میں وہ اپنا سفر طے کرتی ہے، بحیثیت مسلمان اگرآپ زندہ قوم ہیں تو پھر آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ واقعی آپ زندہ ہیں،آپ کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہے،زندہ قومیں تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے،وہ اپنے وجود کی لڑائی خود لڑتی ہے وہ کسی کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ کوئی اسکا مذاق بنائے،زندہ قومیں اور زندہ دل لوگ ہمیشہ ظلم کے خلاف برسر پیکار رہتے ہیں،مردہ اور سوئی ہوئی قوموں کے ساتھ کوئی کھڑا ہونا تک پسند نہیں کرتا اور نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت انکی کسی طرح کی کوئی مدد کرتی ہے،معاشرے میں بزدل اور مردہ لوگوں کی کوئی ضرورت نہ کل تھی نہ آج ہے اور نہ کل رہے گی،بزدل اور مردہ قوم کو پس پست ڈال دیاجاتاہے، انھیں بھلادیاجاتاہے،سماج اور معاشرے میں انکی کوئی قدر نہیں ہوتی،ظلم خواہ کہیں پر بھی ہو ہم سبکو ایک ہوکر اور متحدہ طور پر اسکا مقابلہ کرناچاہئے،باطل کا پنجہ مروڑنے اور حق کی حمایت کےلئے ہمیشہ مسلمانوں کو میدان میں ڈٹے رہنا اور ہمیشہ آگے رہناچاہئے یہی اسلام سکھاتاہے اور یہی ہمارے مذہب کی تعلیم ہے”مذکورہ خیالات کا اظہار  شہر حیدرآباد سے تشریف لائے معروف صحافی اور ممتاز عالم دین  مولانا سرفراز احمد قاسمی نے جامع مسجد ہرنتھ میں مسلمانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو زندہ قوم بنایاہے،اسلامی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسلمان ہمیشہ سے ایک زندہ قوم رہی ہے اور ہر موقع پر اپنی زندہ دلی کے ذریعہ فرائض منصبی کو بحسن خوبی انجام دیتی رہی ہے،جسکا نتجہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے دشمن ان سے مقابلہ تو دور آنکھ سے آنکھ ملانے کی بھی ہمت نہیں کرتے تھے،ادھر کچھ عرصے سے مسلمانوں نے اپنے فرائض منصبی کو بالائے طاق رکھ دیا،شریعت کو چھوڑکر اپنی من مانی زندگی گذارنے لگے تو آج ہم ہرجگہ مشکلات ومصائب کا شکار ہیں،ہمیں اپنی کمیوں،کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کرکے اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اسکے بغیر ہمیں دنیا کے کسی بھی حصے میں کامیابی و کامرانی نہیں مل سکتی، مولانا قاسمی جو نوجوان،متحرک اور فعال عالم دین ہیں نے مزید کہاکہ آج دنیا بھر میں ہرجگہ مسلمان مشکلات و مصائب کا شکار ہیں،ہندوستان سے لیکر فلسطین تک مسلمان دنیا کے کونے کونے میں اپنے حقوق اور اپنے وجود کی لڑائی لڑرہاہے،ہم مسلمان تاریخ  کے انتہائی نازک دور سے گذر رہے ہیں،اسلئے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی،اپنے اخلاق وکردار کو درست کرنا ہوگا،ہمیں اپنا رویہ اور زندگی گذارنے کا انداز بدلنا ہوگا،وقت اور حالات کی سنگینی کا احساس کرنا ہوگا،تاکہ ہم کامیاب وکامران ہوسکیں،
ظلم کے خلاف جدو جہد انبیاء کی  سنت اور مظلوم کی حمایت ہر مسلمان کا اخلاقی فریضہ ہے، یہ فکر ہمیں اپنے اندر پیداکرنی ہوگی،مسلمان ہر حال میں عدل وانصاف کا پابند ہے،اسی لئے حسب استطاعت مظلوم کی حمایت کرنے کا حکم ہے،ظلم وزیادتی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے،ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلوم کو اسکے حق کے حصول تک  جدو جہد کرنے کا پابند ہے،مسجد یوسف علی بھٹہ اسلام نگر برہ پورہ میں مولانا نے اپنے فکرانگیز خطاب میں کہا کہ آج جو حالات ہمارے ساتھ پیش آرہے ہیں یہ کوئی اتفاقی امر نہیں ہے بلکہ اسکی پیشن گوئی چودہ سو سال قبل کردی گئی ہے لیکن اسکے باوجود ہم خواب غفلت میں ہیں، ایک حدیث کے حوالے سے انھوں نے کہاکہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایاکہ”عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ دنیا بھر کی دیگر قومیں تم پر حملہ کےلئے اورتمہیں ختم کرنے کےلئے ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے دسترخوان پر بیٹھے لوگ پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں،کسی نے سوال کیاکہ یا رسول اللہ!کیا ہماری تعداد اسوقت کم ہوگی؟کیا ہم تعداد کے لحاظ سے بہت تھوڑے ہونگے؟تو آپ نے ارشاد فرمایا نہیں! بلکہ اسوقت تمہاری تعداد بہت ہوگی،لیکن تمہاری حیثیت نالے میں بہنے والے پانی کے جھاگ کی طرح ہوگی،اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب نکال دےگا اور تمہارے دلوں میں وہن پیدا کردےگا،صحابہ نے پوچھا کہ وہن کیا چیز ہے؟یہ کس چیز کو کہتے ہیں؟آپ نے فرمایا وہن دو چیزوں کا نام ہے،ایک دنیا کی محبت اور دوسرے موت کا خوف”آج نظردوڑائیے تو یہ بیماری ہم مسلمانوں میں نمایاں طورپر نظر آئے گی،ہر آدمی دنیا کمانے کی فکر میں پاگل ہے،لوگ پیسوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں،
 اللہ تعالی ہم سبکی حفاظت فرمائے،مولانا قاسمی جو ملک کے ایک اچھے  قلم کار اور کالم نگار بھی ہیں  نے اپنا ولولہ انگیز خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں اللہ کے حضور توبہ استغفار کرنا چاہئے اور ہم سبکو اپنے حالات کو بدلنے کی فکر پیدا کرنی ہوگی،جب تک ہم خود اپنے حالات کو بدلنے کی فکر نہیں کرتے اسوقت تک نہ ہمارے انفرادی حالات درست ہوسکتے ہیں اور نہ  ہی اجتماعی، ایک صحابی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسواللہ مجھے آپ سے محبت ہے آپ نے ارشاد فرمایا سو چ لو تم کیا کہہ رہے ہو،انھوں نے پھر یہی الفاظ دہرایا کہ مجھے آپ سے محبت ہے،آپ نے پھر ارشاد فرمایا کہ سوچ لو کیا کہہ رہے ہو،انھوں نے پھر تیسری بار یہی عرض کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ پھر مصبتیں جھیلنے،فقرو فاقہ کی زندگی بسر کرنے اور آفتوں کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار ہوجاؤ”
ترمذی شریف کی ایک روایت کے حوالے سے ا نکا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ پانچ کام کرلیں جو اس حدیث میں بتایاگیاہے تو بہت حد تک ہمارے سماجی حالات درست ہوجائیں گے اور ہم ایک مثالی سماج اور معاشرہ بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں،ایک ایسا سماج جو اسلام چاہتاہے،ایک ایسے معاشرے کی تشکیل جسکا مطالبہ اسلام ہم مسلمانوں سےکرتاہے،حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کون شخص ایساہے جو مجھ سے ان کلمات کو سیکھے اور اس پر عمل کرے،یا کسی ایسے آدمی کو سکھلائے جو اس پر عمل کرے،حضرت ابوہریرہ نے کہا یا رسول اللہ میں ان کلمات کو سیکھنا چاہتاہوں،تو رسول اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور یہ پانچ چیزیں شمارکرائیں،آپ نے فرمایا حرام چیزوں سے بچو تو اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ تم لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گذار ہوجاؤگے اور اللہ کی تقسیم پر راضی رہو تو اسکا فائدہ یہ ہوگاکہ تم لوگوں میں سب سے زیادہ بے نیاز ہوجاؤ گے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو تو اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ تم پکے سچے مومن ہوجاؤ گے اور اپنے لئے جو چیز پسند کرتے ہو دوسرے کےلئے بھی وہی پسند کرو تو اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ پکے سچے مسلمان ہوجاؤ گے اور زیادہ  ہنسنے سے بچو اسکا نقصان یہ ہے کہ زیادہ ہنسنا دلوں کو مردہ کردیتاہے،مولانا قاسمی نے لوگوں سے یہ عہد لیا کہ آج سے ہم ایک پاکیزہ معاشرہ بنانے میں اپنا کردار اداکریں گے اور غفلت و بزدلی کو روندکر ہمیں ایک زندہ قوم کی صف میں شامل ہونا ہوگا۔

Related posts

مسلمانوں سے آزاد بھارت بی جے پی کا خواب

www.journeynews.in

مسقط۔18؍ دسمبر۔ ایم این این۔وزیر اعظم نے آج مسقط میں بھارتی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ حاضرین میں مختلف بھارتی اسکولوں کے 700 سے زائد طلبہ شامل تھے۔ اس سال عمان میں بھارتی اسکولوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اپنی قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب میں بھارت میں موجود خاندانوں اور دوستوں کی جانب سے برادری کو پیغامات اور مبارکباد دیں۔ انہوں نے برادری کے شاندار اور گرمجوش استقبال کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عمان میں آباد مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں سے مل کر خوش ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ تنوع بھارتی ثقافت کی بنیاد ہے،ایسا قدر جو انہیں کسی بھی معاشرے میں شامل ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔بھارتی برادری کی عمان میں اعتماد اور مقام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آہنگی اور تعاون بھارتی تارکین وطن کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بھارت اور عمان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، مانڈوی سے مسقط تک، اور آج یہ تعلقات تارکین وطن کی محنت اور ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو جانیے کوئز میں بڑی تعداد میں حصہ لینے والی برادری کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علم بھارت-عمان تعلقات کا مرکز رہا ہے اور برادری کو ملک میں بھارتی اسکولوں کے 50 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے برادری کی فلاح و بہبود کے لیےعزت مآب سلطان حیثم بن طارق آل سعید کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم نے بھارت کی اصلاحاتی نمو اور ترقی، اس کی رفتار اور تبدیلی کے پیمانے، اور معیشت کی قوت پر بات کی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد نمو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ 11 سال میں حکومت کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، مینوفیکچرنگ، صحت کی سہولیات، گرین گروتھ، اور خواتین کی بااختیاری کے شعبوں میں ملک میں تبدیلیاں آئی ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت 21ویں صدی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس میں عالمی سطح کا اختراع، اسٹارٹ اپ اور ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوپی آئی، جو دنیا بھر میں ہونے والی تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بنتا ہے، فخر اور کامیابی کا سبب ہے۔انہوں نے بھارت کی خلائی شعبے میں حالیہ شاندار کامیابیوں، چاند پر لینڈنگ سے لے کر منصوبہ بند گگن یان انسانی خلائی مشن تک روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبہ بھارت اور عمان کے تعاون کا ایک اہم حصہ ہے اور طلبہ کو اسرو کے یوویکا پروگرام میں حصہ لینے کی دعوت دی، جو نوجوانوں کے لیےمختص ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت صرف ایک بازار نہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے،چاہے وہ اشیاء اور خدمات ہوں یا ڈیجیٹل حل۔وزیر اعظم نے تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جہاں بھی اور جب بھی ہمارے لوگ مدد کے محتاج ہوں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت۔عمان شراکت داری مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی( میں تعاون، ڈیجیٹل لرننگ، انوویشن پارٹنرشپ، اور کاروباری تبادلے شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، گہرائی سے سیکھیں، اور جرات مندانہ اختراعات کریں تاکہ وہ انسانیت کی بھلائی میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

www.journeynews.in

چین میں "ایک زرعی طاقتور ملک کی تعمیر کو تیز کرنے کے منصوبہ (2024-2035)” کا اجراء

www.journeynews.in