سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
سڑک سے سنسد تک ملک کی سیاست میں آج کل ایک نام بہت زیادہ لوگوں کی زبان پر ہے،جدھر نظر ڈالئے اسی کی گونج ہے بچوں سے لیکر بڑے بوڑھے کی زبان پر ایک ہی نام ہے،سوشل میڈیا کے تقریبا سارے پلیٹ فارم پر انکی تقریریں،ویڈیو اور تصویروں کی بھرمار ہے،ہوٹلوں،بازاروں گویا ہر جگہ ان ہی کا تذکرہ اور وہ نام ہے،قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کا وہ اسوقت بہار کی سر زمین پر ہیں، وہ لوگوں سے ملاقات اور روڈ شو کے ذریعے اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں۔گذشتہ سال بھی انھوں نے پورے ملک کا دورہ کیا۔بھارت جوڑو یاترا اور بھارت جوڑو نیائے یاترا جیسے طویل روڈ شو کے ذریعے وہ اپنی بات ملک کے لوگوں تک پہونچاتے رہے،مختلف میدانوں کے ماہرین سے مل کر ملک کے مسائل کا حل تلاش کرتے رہے،وہ ہندوستان کی قدآور سیاسی تنظیم کانگریس کے سابق صدر اور گاندھی خاندان کی پانچویں پشت کے رہنما بھی ہیں۔ان کی پیدائش 19 جون 1970ء کو ہوئی۔جب وہ 14سال کے تھے تو ان کی دادی اور اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا قتل ہو گیا۔اس کے بعد 21 مئی 1991ء کو انتخابات کے دوران ہی ان کے والد راجیو گاندھی کا چنّئی میں قتل ہو گیا۔راہُل گاندھی نے دہلی کے ماڈرن اسکول،دون اسکول اور پھر سینٹ اسٹیفن کالج میں تعلیم حاصل کی،اسکے بعد بیرون ملک سے علم معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔وہ پہلی بار 2004ء میں اپنے خاندان کی روایتی لوک سبھا سیٹ یوپی کے امیٹھی سے جیت کر پارلیمان پہنچے۔سال 2007میں کانگریس کے جنرل سکریٹری بنے۔2013ء میں پارٹی کے نائب صدر کے طور پر منتخب کیا گیا۔2017 میں انھیں کانگریس پارٹی کا صدر بنایاگیا لیکن 2019 کے انتخابات میں پارٹی کی تباہ کن کارکردگی کے بعد جولائی 2019ء کو انھوں نے منصبِ صدارت سے استعفی دے دیا اور کسی غیر گاندھی خاندان کے شخص کے صدر بننے کی بات کہی تھی۔استعفی کے بعد جب وہ کانگریس کے باضابطہ رہنما نہیں رہے،انھوں نے دو پارلیمانی نشستوں پر بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی،جن میں ریاست کیرالہ کے وایناڈ اور اتر پردیش کا حلقہ رائے بریل شامل ہے۔حکمراں طبقہ اکثر ایک غیر سنجیدہ سیاست داں کے طور پر انکا مذاق اڑاتا رہا ہے۔لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے دو تین سالوں میں انھوں نے ملک بھر میں دو طویل مارچ کئے جس نے ان کی اس شبیہ یا تصور کو ختم کرنے میں مدد کی۔راہل گاندھی اسوقت ایک تاریخ رقم کررہے ہیں،پورا میڈیا،حکمراں،سیاسی پارٹیاں اور سرمایہ دار سب مل کر جس شخص کو گذشٹہ دس سال سے ” پپو ” ثابت کرنے میں لگے رہے آج اس نے اکیلے سب کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے،پورے سسٹم سے ٹکرا کر انھوں نے اپنی لیاقت و قیادت کو ثابت کیا اور منوایا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب زبانوں پر تالے لگ رہے تھے،جمہوریت کا کھلے عام اجتماعی قتل ہورہا تھا،لوگ بولنے اور زبان کھولنے سے ڈرتے تھے،خاموشی نجات کا واحد ذریعہ بن چکی تھی،ایسے میں شاہی خاندان کے اس نوجوان نے تنہا فاشسٹ طاقتو ں اور زعفرانی تہذیب سے لڑنے کی قسم کھائی،سڑک پر دوڑا،شب و روز دوڑا،سر بازار دوڑا،لوگوں کو ماضی کا بھارت یاد دلایا،انکے چھینے جا رہے حقوق کی جانب توجہ دلائی،ملک کا میڈیا اسے گراتا رہا،یہ مردمیداں چلتا رہا،رکاوٹیں آتی گئیں،مگر سب کو جھیل کر وہ آگے پڑھتا رہا،زعفرانی طاقتوں کے خلاف یہ شخص تن تنہا صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی طور پر سارے سسٹم سے الجھ بیٹھا ہے۔ان لوگوں سے لڑائی خرید لی ہے جو لوگ ملک کے مالک اور خدا بن بیٹھے تھے۔راہُل گاندھی نے عوام سے جُڑنے،سیاسی حمایت،ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت،فرقہ واریت،مہنگائی،بے روزگاری کے خلاف آواز اٹھانا اور ‘اتحاد’ کا پیغام دینے کے لیے بھارت جوڑو،ہزاروں کیلو میٹر پیدل یاترا کی،جسکے ذریعے عام لوگوں، کسانوں، طلبا، مزدوروں،فنکاروں،اور سیاسی کارکنوں سے انھوں نے ملاقات کی۔بھارت جوڑو نیائے یاترا کے نام سے ایک دوسری یاترا (Bharat Jodo Nyay Yatra) 2024 میں کی جسکی مدت 14 جنوری 2024 سے مارچ 2024 تک رہی اور تقریباً 6,713 کلومیٹرمنی پور(مشرقی بھارت) سے مہاراشٹرا (مغربی بھارت) تک کی جس میں 15 ریاستیں اور 110 اضلاع شامل تھے اسکا مقصد”نیائے” (انصاف) پر زور دینا تھا،خاص طور پر سماجی،معاشی اور سیاسی انصاف کے علاوہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی رائے پیدا کرنا تھا،یہ یاترا زیادہ تر بس اور کچھ مقامات پر پیدل ہوئی۔
بھارت جوڑو یاترا (Bharat Jodo Yatra) جسکی مدت 7 ستمبر 2022 سے 30 جنوری 2023 تک رہی۔اور فاصلہ تقریباً 3,570 کلومیٹر کشمیر سے کنیا کماری (تمل ناڈو) تک یہ ریاستیں تمل ناڈو، کیرالہ،کرناٹک،آندھرا پردیش،تلنگانہ، مہاراشٹرا،مدھیہ پردیش،راجستھان،ہریانہ،دہلی،اتر پردیش،پنجاب،اور جموں و کشمیر ہے۔
2023 میں انھوں نے امریکہ کا ایک انتہائی کامیاب اور غیر معمولی دورہ بھی کیا،اس 6 روزہ دورے کے دوران انھوں نے امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں،فنکاروں،صحافیوں اور وہاں کی معروف جامعات کے طلباء اور دیگر گروپ سے ملاقات کی تاکہ وہ”نظریہ ہندوستان”انھیں سمجھا سکیں،اس میں شک نہیں کہ اُن کے مخالفین کا ترکش کبھی تیروں سے خالی نہیں ہوتا،اگرہوتا بھی ہے تو وہ نئے تیر لے آتے ہیں اور خاموش رہنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب مخالفین بھی اُن کی باتوں اور بیانات کا نوٹس لینے پر مجبور ہیں۔انکے اندر یہ بہت بڑی تبدیلی آئی ہے،بھارت جوڑو یاترا کے بعد سے۔راہل گاندھی وہی ہیں،اُن کی سیاست وہی ہے،تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اُن کا انداز ِ خطابت وہی ہے،نظریہ وہی ہے،دلائل وہی ہیں اور موضوعات وہی ہیں مگر کل تک اُن کی باتوں اور بیانات کو مضحکہ خیز یا ناقابل تبصرہ قرار دیا جاتا تھا،اب ایسا نہیں ہورہا ہے۔اُن کی نکتہ چینی تو اب بھی جاری ہے بلکہ اب وہ پہلے سے زیادہ کیل کانٹوں سے لیس ہیں اور برہمی کے انداز میں راہل کو لتاڑنے کی کوشش کرتے ہیں مگرمسترد نہیں کرپاتے،پپو ّ،نادان، نام دھاری،شہزادہ،غیر سنجیدہ،جزوقتی سیاستداں یا ذمہ داریوں سے بھاگنے والا قرار دینا تو دور کی بات ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت جوڑو یاترا سے ایک ایسا راہل منصہ شہود پر آیا ہے جس میں عوام کی دلچسپی بڑھ گئی ہے،ذرائع ابلاغ کیلئے اُنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہ گیا ہے،سوشل میڈیا نے اُن کے پیغام کو گھر گھر پہنچایا ہے حتیٰ کہ غیر ملکی میڈیا بھی بھارت جوڑو یاترا کو نظر انداز نہیں کرسکا تھا۔گذشتہ دنوں راہل گاندھی اسلئے بھی موضوع بحث بنے کہ ریاست ِ کرناٹک کی تاریخی انتخابی کامیابی کو بیشتر مبصرین نے بھارت جوڑو سے جوڑا اَور بتایا کہ اس کامیابی میں جہاں کانگریس کی فعالیت،زمینی و مقامی مسائل اُٹھانے کی حکمت عملی،پرینکا گاندھی کی عوام کو جوڑنے والی ریلیوں اور دھرتی پُتر ملکارجن کھڑگے کی صدر نشینی کا دخل ہے،وہیں راہل کی بھارت جوڑو کا بھی اثر ہے۔
اِس طرح کنیا کماری سے کشمیر تک کی یاترا اور پھر کرناٹک کی کامیابی سے ایک ایسے راہل کا ظہور ہوا جس کی خود اعتمادی میں اضافہ تو ہوا ہی ہے مگر جو اپنے آپ کو ازسرنو متعارف کرانے کےلئے عوام کی بات سننا چاہتا ہے،عوام کی بات کرنا چاہتا ہے، حقیقی مسائل اور جعلی مسائل کے فرق کو عوام کے ذہنو ںمیں اُتارنا چاہتا ہے،سب کو ساتھ لے کر چلنے اور عوام کے حق میں مفید ثابت ہونے والی سیاست پر زور دیتا ہے، گوڈسے نوازی کے دور میں گاندھی پسندی کی بات کرتا ہے اور سب سے اہم یہ کہ نفرت کے بازار میں محبت کی دُکان کھول رہا ہے۔آخر الذکروہ نعرہ ہے جسے توقع سے کہیں زیادہ شہرت اور مقبولیت ملی ہے۔یاد رہنا چاہئے کہ جس امریکہ میں راہل نے کئی میٹنگیں اور جلسے کئے وہاں وزیر اعظم مودی کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہی نہیں بہت زیادہ ہے اس کے باوجود راہل کی ہر میٹنگ میں شرکاء کا اشتیاق اور جذبہ دیدنی تھا۔یہی کیفیت بھارت جوڑو کے بعد سے اندرون ملک بھی پائی جاتی ہے۔اِس دوران جو سروے ہوئے وہ راہل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی توثیق کررہے ہیں مگر یہ ابتدائی کامیابیاں ہیں،ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔راہل کے سامنے آگ کا دریا ہے اور پار اُتر نے کے لئے ڈوب کرجانا شرط ہے۔
7 اگست 2025 کو قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر جو بجلی گرائی اور سیاسی دنیا میں جو طوفان برپا کیا،اس نے نہ صرف انتخابی سالمیت پر سوالیہ نشان لگا دیا بلکہ جمہوریت کی بنیادوں کو پوری طرح سے ہلا کررکھ دیا ہے ان کے الزامات نے ایک ایسے نظام کی کھوکلی بنیادوں کو بے نقاب کر دیا ہے جو عوامی مرضی کی نمائندگی کا دعوی کرتا ہے،ان الزامات کے بعد اس معاملے میں بی جے پی کچھ زیادہ ہی چراغ پا نظر آرہی ہے اس کو اپنی پول کھولنے کا ڈر ستانے لگا ہے،الیکشن کمیشن کے کسی رد عمل سے قبل ہی بی جے پی میدان میں کود پڑی تھی،اس کا دفاع کرنے کی پوری کوشش کی گئی تھی اور راہل گاندھی سے یہ بھی مطالبہ کیا جانے لگا تھا کہ اگر انہیں الیکشن کمیشن پر اعتماد اور بھروسہ نہیں ہے تو وہ لوک سبھا کی رکنیت سے مستفی ہو جائیں،یہ دراصل الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والی کہاوت کے مترادف ہے،راہل گاندھی کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کی مدد کی ہے اور فرضی ووٹوں سے پارٹی کو اقتدار دلانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔بی جے پی کے کئی قائدین الیکشن کمیشن کا دفاع کرنے کے لئے میدان میں کود پڑے ہیں،بی جے پی کی جانب سے نت نئے بہانے پیش کئے جا رہے ہیں بے تعلق باتیں اور جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے راہل گاندھی کے خلاف الزامات عائد کئے جا رہے ہیں،ویسے بھی بی جے پی راہل گاندھی سے ہمیشہ ہی خوفزدہ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کو نشانہ بنانے کے لیے باضابطہ ایک ٹیم کام کرتی ہے اور اس ٹیم پر کروڑہا روپے خرچ کیے جاتے ہیں، گودی میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکرس کے لئے بھی یہی نشانہ مقرر کیا جاتا ہے کہ وہ لگاتار راہل گاندھی کو نشانہ بنائیں،انکی امیج کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے اور انھیں کسی بھی صورت میں ناہل قرار دیا جائے۔7 اگست کے انکشاف کے بعد پورے ملک میں یہ مسئلہ موضوع بحث بن گیا ہے،حالانکہ اس سارے معاملے کو گودی میڈیا نے اہمیت دئے بغیر نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سوشل میڈیا اور کچھ ذمہ دار چینلز نے اس معاملے پر توجہ دی ہے اور آج پورے ملک میں اس مسئلے کی گونج ہے کئی گوشوں سے راہل گاندھی کے دعوے کی تائید کی جا رہی ہے اور الیکشن کمیشن پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ان الزامات کی جانچ کریں اور اس کی وضاحت کی جائے۔
مارچ 2023 میں، راہل گاندھی کو ایک ہتک عزت (defamation) کیس میں دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔یہ کیس اُن کے 2019 کے ایک بیان پر تھا جس میں اُنہوں نے "مودی سرنیم” والے تبصرے کئے تھے۔سزا ملنے کے بعد،قانون کے مطابق،اُن کی لوک سبھا کی ممبرشپ چھین لی گئی اورسرکاری بنگلہ (سرکاری گھر) بھی خالی کرنے کا نوٹس دیدیا گیا،اُنہوں نے اپریل 2023 میں وہ بنگلہ خالی بھی کردیا تھا۔راہل گاندھی نے متعدد بار وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی خاص طور پرنوٹ بندی (Demonetization)کسان قوانین (جو بعد میں واپس لے لیے گئے)معاشی حالت،چین کے ساتھ سرحدی تنازع اور اڈانی گروپ کے ساتھ قریبی تعلق وغیرہ
حکومت نے اکثر ان کے بیانات کو”غیر ذمہ دارانہ” یا "قوم دشمن” قرار دیا، جبکہ بی جے پی لیڈران نے ان پر طنز بھی کیا انکے خلاف قانونی کارروائیاں کرکے مقدمات میں پھنسایا گیا۔راہل گاندھی کو مختلف قانونی معاملات میں نشانہ بنایا گیا، جن میں ہتکِ عزت کا مقدمہ،2023 میں ایک ہتکِ عزت کیس میں انہیں سزا ہوئی اور پارلیمنٹ کی رکنیت عارضی طور پر ختم کر دی گئی،ای ڈی (Enforcement Directorate) سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو نیشنل ہیرالڈ کیس میں طلب کیا گیا۔یہ تمام کارروائیاں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے "سیاسی انتقام” کے طور پر بیان کی گئیں۔راہل گاندھی نے کئی بار یہ بھی الزام لگایا کہ وہ جب بھی پارلیمنٹ میں بولتے ہیں، حکومت کے وزرا اکثر ان کے بیانات کو چیلنج کرتے ہیں یا جواب دیتے ہیں۔ان کی تقاریر کو ریکارڈ سے حذف کیا گیا،اپوزیشن کو بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہے،اپوزیشن کا مائیک بند کردیا جاتاہے۔
بہار کی سیاست اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے،جہاں ووٹ کا حق آئینی شق نہیں بلکہ بقا کی لڑائی بن چکا ہے،راہل کی قیادت میں جاری ووٹر ادھیکار یاترا نے بہار کی سرزمین کو احتجاج، سوال اور مزاحمت کے ایک بڑے اسٹیج میں بدل دیا ہے وہ کئی دنوں سے کبھی بلیٹ ٹووہیلر اور کبھی کھلی کار میں سوار ہوکر عوامی سیاست کو نئے روپ میں پیش کرنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں،ان کے ساتھ ان کی بہن پرینکا گاندھی،تیجسوی یادو اور انڈیا الائنس کے مختلف قائدین بھی اس عوامی سیلاب اور اس تاریخی روڈ شو میں شرکت کررہے ہیں کل تمل ناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اسٹالن نے بھی شرکت کی،آج سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو اور ایک دو دن میں انڈیا اتحاد کے دوسرے قائدین بھی شرکت کریں گے۔راہل گاندھی کا یہ روڈ شو پروگرام ریاست بہار کے 20 سے زائد اضلاع میں عوام تک پہونچے گا،سہسرام سے شروع ہو کر یہ قافلہ گیا،نوادہ،شیخ پورہ، مونگیر،بھاگلپور،پورنیہ، اریہ،سپول،دربھنگہ،مدھوبنی، مظفرپور،ستیا مڑھی،مشرقی و مغربی چمپارن، سیوان، سارن اوربھوجپور سے ہوتا ہوا پٹنہ کے گاندھی میدان میں ختم ہوگا،اس سفر کا کل فاصلہ 1300 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور اسے 16 دنوں میں مکمل کیا جائے گا۔کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ جب بھی پارٹی کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یاترا شروع کی ملک میں جمہوریت نے کروٹ لی ہے،اس بار بہار میں ووٹر ادھیکار شروع کی گئی ہے،اس لیے وہاں بھی تبدیلی آئے گی،کانگریس کے میڈیا انچارج پون کھیڑا نے کہا کہ جب بھی راہل گاندھی یاترا کے لئے نکلے ہیں،اس ملک کی جمہوریت نے کروٹ لی ہے ووٹر ادھیکار یاترا ایک تاریخی پہل ہوگی،یہ یاترا ہم سب کے وجود کی لڑائی میں سنگ میل ثابت ہوگی،انہوں نے کہا کہ یہ یاترا لوگوں کو بیدار کرنے کی یاترا ہے کیونکہ سازش کرنے والے باز نہیں آئیں گے وہ ووٹ چوری کرنے کی کوشش کریں گے، کانگریس ترجمان نے کہا کہ یہ یاترا ایک شخص ایک ووٹ کے حق کے واسطے لڑنے کے لیے نکالی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں آزادی سے سانس لینا صرف اس لئے ممکن ہے کہ ہمارے پاس ووٹ کی طاقت ہے،مسٹر گاندھی نے لڑائی شروع کی ہے تاکہ ملک کا ہر شہری آزادی سے سانس لے سکے،پون کھیڑانے کہا کہ جس طرح جعلی ووٹ جوڑنے اور کاٹنے کا کھیل چل رہا ہے،اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ رنگ ہاتھوں پکڑے گئے ہیں،اب تو عام شہری بھی ووٹ چور گدی چھوڑ کا نعرہ لگا رہے ہیں اور ووٹ چوری کا ثبوت دے رہے ہیں۔
راہل گاندھی کا یہ عوامی اوتار کوئی پہلا نہیں ہے وہ کبھی کسانوں کے کھیتوں میں پانی بھرے گڑھوں میں جوتے اتار کر جا پہنچتے ہیں کبھی مکھانا مزدوروں کے بیچ بھٹی کے قریب بیٹھ کر ان کی محنت دیکھتے ہیں بہار کی وہ زمین جو دنیا کا 90 فیصد مکھانہ پیدا کرتی ہے مگر کسان کو ایک فیصد بھی منافع نہیں ملتا وہاں راہل گاندھی نے خود جا کر اس ناانصافی کو اپنی انکھوں سے دیکھا یہی کسان جو بیشتر دلت اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں اپنی ریڑھ کی ہڈی توڑ دینے والی مشقت کے باوجود محرومی کا شکار ہیں،اس تضاد کو راہل نے اپنی تقریروں میں بار بار اجاگر کیا اور صاف کہا کہ محنت 99 فیصد بہوجن کرتے ہیں مگر منافع صرف ایک فیصد دلالوں کی جیب میں جاتا ہے۔راہل گاندھی نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد بہار کو بے روزگاری کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا ہے،حقیقت یہ ہے کہ بہار کے لاکھوں نوجوان روزگار کے لئے دہلی،ممبئی اور ملک کے دیگر شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور ہیں،کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہیں لیکن ان کے قرض معاف نہیں ہوتے جبکہ عرب پتیوں کے ہزاروں کروڑ کے قرض باآسانی صاف کردئیے جاتے ہیں،ایک عام آدمی جب قرض مانگتا ہے تو بینک اس کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کرتا ہے اور جب اڈانی یا امبانی ہاتھ پھیلاتے ہیں تو سرکاری بینک ان پر خزانے لٹا دیتے ہیں یہ عدم مساوات محض معاشی بدحالی نہیں بلکہ سیاسی بددیانتی ہے جس کے نتائج براہ راست ووٹر کے حقوق پر پڑتے ہیں،راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ سب اس لئے کیا جا رہا ہے کہ دلتوں اور پسماندہ طبقات کو ووٹ کے حق سے محروم کیا جا سکے یہ یاترا صرف جلسے جلوس نہیں بلکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے خلاف عوامی چارج شیٹ ہے،میڈیا پر راہل نے جو طنز کیا وہ بھی نشانے پر تھا،ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں لوگ بارش اور گرمی میں سڑکوں پر نکلے ہیں ووٹ چور گدی چھوڑ کے نعرے گونج رہے ہیں مگر ٹی وی اس پر خاموش ہے کیونکہ وہ غریبوں کا نہیں بلکہ عرب پتیوں کا میڈیا ہے۔یہ تصویر واضح کرتی ہے کہ بہار کی سیاست میں اگلا ایک ہفتہ کس قدر فیصلہ کن ہونے والا ہے،یکم ستمبر کو پٹنہ میں جو جلسہ ہوگا وہ محض سیاسی ریلی نہیں بلکہ ووٹ کے حق پر عوامی فیصلہ ہوگا، جس میں دس لاکھ سے زائد لوگوں کی شرکت کا انتظام کیا جارہا ہے،دوسری طرف الیکشن کمیشن کا رویہ بھی کسوٹی پر ہے اگر وہ واقعی غیر جانبدار ہے تو اسے تمام شکوک کا صحیح صحیح جواب دینا ہوگا ورنہ ووٹ چوری کا نعرہ صرف بہار نہیں بلکہ پورے ملک میں بی جے پی اور کمیشن کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دے گا یہ لڑائی محض بی جے پی اور کانگریس کے بیچ نہیں بلکہ آئین اور ووٹ کے بیچ ہے اگر ووٹ محفوظ نہیں تو جمہوریت کا وجود بھی محفوظ نہیں،بہار کے کسانوں،مزدوروں،اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی آنکھیں اس بار صرف بیلٹ باکس پر نہیں بلکہ اس پر بھی ہوں گی کہ کیا ان کا نام ووٹر لسٹ میں باقی ہے یا نہیں؟ بہار کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر انتخاب صرف نمائندوں کا نہیں بلکہ آئین کے مستقبل کا امتحان بن جاتا ہے، آج پھر وہی مرحلہ آن پہنچا ہے،سوال یہ نہیں کہ راہل گاندھی نے بائیک چلائی یا کھیتوں میں اترے سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی جمہوریت ووٹ کے حق کو محفوظ رکھ پائے گی یا اسے اپنے ارب پتیوں کی جیب میں گروی رکھ دیا جائے گا وقت کی گھڑی بتائے گی لیکن بہار کی مٹی ایک بار پھر تاریخ لکھنے کے دہانے پر کھڑی ہے۔
راہل گاندھی کا ویژن شفاف ہے ، وہ آئین کے مطابق تمام ہندوستانیوں کے لیے اچھا خواب دیکھ رہے ہیں اور انہیں زمین پر اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان کے نظریے میں ان کا دین ہے لیکن بھید بھاؤ اور نفرت نہیں ہے ۔ وہ ملک کے دستور کی روح کو عملا زمین پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
راہل گاندھی ایک ایسے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں جو کھل کر ہمیشہ آر ایس ایس کے نظریات اور اس کی پالیسی پر تنقید کرتے رہے ہیں،چند مہینے پہلے کانگریس کے نئے دفتر کے افتتاح کے موقع پر بھی انہوں نے آر ایس ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ سنگھ پریوار اور بی جے پی نے ملک کے تمام آئینی اور جمہوری اداروں پر اپنے نظریہ کے افسروں کا قبضہ کرادیا ہے،انھوں نے کانگریس اور آرایس ایس کے مابین نظریاتی محاذ آرائی پر بھی زور دیا تھا،راہل گاندھی نہرو کے بعد کانگریس کے ایسے پہلے لیڈر ہیں جو اپنے نظریات میں کسی تذبذب کا شکار نہیں ہے وہ سنگھ پریوار کے نظریات کو نہرو کی طرح ملک کے لئے خطرہ مانتے ہیں اور نہرو کی طرح ہی وہ سنگھ کی بخیہ ادھیڑتے رہے ہیں،جو حکمراں طبقے کےلئے ناقابل برداشت اور بوکھلاہٹ کا سبب ہے،اب جبکہ حکومت،الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کے خلاف وہ مسلسل حق بیانی کررہے ہیں اور انکی مکروہ سازشوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں،اسکو تاریخ کے صفحات میں نمایاں الفاظ کے ساتھ لکھا جائے گا،بہار سے بلند ہونے والی یہ آواز کہ "راہل گاندھی کو ملک کا اگلا وزیر اعظم بنائیں گے”دیکھنا ہوگا کہ راہل گاندھی ملک میں کس طرح انقلاب برپا کرتے ہیں فی الحال ملک میں انھوں نے جو ماحول بنا دیا ہے شاعر کے بقول اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ
صرف ہنگامہ کھڑا کرنا مرا مقصد نہیں
میری کوشش ہے کہ یہ صورت بدلنی چاہئے
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی
ہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئے۔
اور شاعر سے معذرت کے ساتھ یہ بھی کہ
عرش والے مری توقیر سلامت رکھنا
فرش کے سارے خداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں۔
(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)