جنوری 10, 2026
پریس ریلیزخبریں

ہیرا گروپ آف کمپنیز اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی حقیقت اور سچائی سازشوں، قانونی لڑائیوں اور سرمایہ کاروں کی ادائیگیوں کا جائزہ

نئی دہلی (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا معاملہ آج ہندوستان بھر کا بحث میں معمہ بنا ہوا ہے، لیکن جتنی آسانی سے لوگ کسی شخص کی طرف انگشت نمائی کرتے ہیں حقیقت تک پہنچنے کیلئے اپنے ذہن و دل اور یادداشت پر زور نہیں ڈالتے، کیونکہ سوچنے اور شفاف فیصلے پر پہنچنے کیلئے ماضی کی یادوں کو کھنگالنا پڑتا ہے، انسان منفی سوچ کا معمہ ہوتا ہے اور منفی خبر کو اچھالنے اور اس کو بحث کا ذریعہ بنانے میں اسے مزہ بھی آتا ہے، چند ایک بار اپنی بغض و عناد کا بھی شمولیت کر لیتا ہے تو دوسروں کیلئے انصاف سے بہت دور ہو کر فیصلے لیتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے، اس پر مزید سونے پر سہاگا یہ کہ بہکائے گئے ابلیس کے چیلوں اور شیطانوںکی پھیلائی ہوئی افواہوں کا بھی کردار شامل ہوتا ہے، ظاہر سی بات ہے سرکش و فریبی شخص جب حریف کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو پہلے اسے عوامی سطح پر بدنام اور کمتر درجے میں پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، اس کے بعد دیگر حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اسی لئے کتاب مقدس میں فرمایا گیا کہ جب کوئی فاسق فاجر خبر پھیلائے تو جانچ پڑتال کرلیا کرو، کہیں ایسا نا ہو کہ تم نادانی اور ناسمجھی میں کسی گروہ کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر تمہارے پاس پھچتاوے کے سوا کوئی چارا نا ہو۔ ٹھیک اسی طرح ہیرا گروپ آف کمپنیز کے ساتھ ہوا رہا ہے، خاص تو خاص عام لوگ جن کو حقیقت حال سے کوئی واقفیت نہیں ہے وہ ہیرا گروپ اور اس کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے، جب کہ لوگوں کو ہیرا گروپ کی سچائی اور اس کی حقیقت اور اس پر کئے گئے سازشی حملے کی حقیقت کو لوگ نہیں جانتے اور سمجھتے۔
ماضی قریب کی بات کریں تو ہیرا گروپ آف کمپنیز اپنے عروج کے ایام طے کرتے ہوئے فلاح و بہبود کی نئی نویلی شروعات پر قدم رکھتی جا رہی تھی، دشمن عناصر جو ابھی تک خدشات کے پیچھے ہیرا گروپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے وہ اب حتمی فیصلے کیلئے سینہ سپر ہوگئے اور کمربستہ ہوتے ہوئے ہیرا گروپ سی ای او کو گرفتار کرا دیا گیا، لیکن بابنیاد سی ای او نے ہار نہیں مانی، عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنی سچائی اور حقیقت کی بنیاد پر ہر محاذ کی ذمہ داری سنبھالی اور ملک کے قانون پر بھروسہ رکھتے ہوئے ہر سازش کا جواب دیا، ایک جانب ہیرا گروپ کے دفاتر پر تالے لگا دئے گئے تو دوسرے طرف کمپنی بورڈ آف ڈائرکٹرس کو ہراساں کیا گیا۔ جانچ کے نام پر تمام ریکارڈ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، ان سب کے درمیان ہیرا گروپ سی ای او نے جو بھی گراں قدر شوروم میں سونے کے زیورات کمپنی کے ہاتھ میں تھے انہیں سرمایہ کاروں میں تقسیم کر دیا گیا، ڈھائی سال جیل میں رکھنے کے بعد جب ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی رہائی ہوئی تو اپنی وساطت اور وسعت کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو ایسے وقت میں ادائیگیاں کی گئیں جب ان کے بینک اکاﺅنٹ منجمد تھے اور جائیدادیں ضبط تھیں،یعنی کہ تمام وسائل پر تالے لگے ہوئے تھے، عوام کو سمجھنا چاہئے کہ ایک بابنیاد تجارت اور اس کی مالک کس طرح لوگوں کیلئے فکر مند ہے اور آج بھی اسی مستعدی سے قانونی جنگ لڑی جارہی ہے، اور اگر ایک لاکھ روپئے بھی ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے ہاتھوں میں میسر ہوئے تو مستحقین تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نا رکھی۔
ان سب سازشوں کی بنیاد 2008 سی رچی گئی اور پہلا قدم 2012 میں اٹھایا گیا، جب حیدر آباد کے ممبرپارلیمنٹ نے حکومت سے ہیرا گروپ کمپنی کی جانچ کا مطالبہ کیا اور ایف آئی آر کیا، نا صرف جانچ کا مطالبہ کیا بلکہ اس کی پیروی خود کرنے کی ٹھانی۔ بابنیاد اور ٹھوس ثبوتوں کے آدھار پر ہیرا گروپ آف کمپنی اور سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے مقدمہ جیت لیا اور بیرسٹر مانے جانے والے ممبرپارلیمنٹ رسوخ دار اسد اویسی شکست فاش سے دو چار ہوئے۔ اس واقعے کے بعد گویا ہیرا گروپ آف کمپنیز کو عروج حاصل ہوا اور بلندیوں کی نت نئی داستانیں ہیرا گروپ آف کمپنیز کا مقدر ہوئیں، عوامی مطالبے پر سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے عوامی خدمت کا بیڑا اٹھایا، ہرا گروپ کی تجارتی سرگرمیوں سے پریشان دشمن عناصر نے عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی ملک گیر عوامی فلاح و بہبود کی نئی مقبولیت اور سرگرمیوں سے گویا اپنی بقا کیلئے خطرہ محسوس کرنے لگے، دوسری جانب عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی تعلیمی خدمات بھی دشمن عناصر کی ایجوکیشن مافیا پر کاری ضرب تھا، عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے ذریعہ پھیلایا گیا ملک گیر پیمانے پر اسکولوں کا جال، مسجد ،مدرسوں کی خدمات اور میڈیکل کالج کیلئے مکمل ہو چکی تیاریاں ہر سطح پر سازش کاروں کی بقا کا مسئلہ بن چکا تھا، گویا کہنے کا لب لباب یہ ہے کہ عوام جب پردے کے پیچھے دیکھنے کی عادی ہوگی تب جا کر کسی بھی حقیقت حال سے واقفیت آسان بات ہوسکتی ہے، مگر پکی پکائی کھچڑی، دشمن کی پھیلائی ہوئی سازشوں اور مکرو فریب کے جال میں پھنس کر رائے قائم کرلینا آسان ہے، لیکن اس سے اس انقلاب کو آنچ آ سکتی ہے جسے سیکڑوں برس میں کہیں ممکن پایا جاتا ہے۔ لہذا عوام کو چاہئے کہ رائے قائم کرنے سے قبل اس کے پیچھے حقیقت اور سازش کاروں کے مکر و فریب کو سمجھیں، اگر کسی کی نیک اور عوامی مفاد کیلئے بیش بہا مہمات میں مددگار ثابت نا ہو سکیں تو کم از کم اس کی سالمیت کے لئے خطرہ اور حوصلہ شکنی کا سبب بھی نا بنیں۔

Related posts

شیوانی دھنکر نے مسلم بچے اور عبدالمطلب نے مسلم بزرگ کی بچائ جان

www.journeynews.in

جامعہ نسواں السلفیہ تروپتی کا سالانہ اجلاس بحسن و خوبی اختتام پذیر

www.journeynews.in

آٹھ سال سخت جی ایس ٹی کے بعد تبدیلیاں کہیں مودی حکومت کے اختتام کا شاخسانہ تو نہیں

www.journeynews.in